خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 105

خطبات طاہر جلدم 105 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء یہ ایک یوروپین عیسائی مفکر ہیں اور پادری ہیں انہوں نے تو جماعت احمدیہ کی پشت پر ایک عمل کی طاقت دیکھی ہے ان کو انگریز کی کوئی طاقت نظر نہیں آئی لیکن اگر وہ عارف باللہ بھی ہوتے اور ان کو روحانیت کی آنکھ بھی نصیب ہوتی تو وہ احمدیت کی پشت پر صرف ایک عمل کی طاقت نہ دیکھتے بلکہ ان کو احمدیت کی پشت پر ایک قادر مطلق عظیم خدا کی طاقت نظر آتی جس نے اپنے ہاتھ سے احمدیت کا پودا قادیان میں لگایا تھا۔یہ وہ پودا ہے جسے کسی اور ہاتھ نے لگایا نہ کسی اور ہاتھ کی یہ مجال ہے کہ وہ اس پودے کو اکھاڑ سکے۔اس پودے کو لگانے والا بھی خدا تھا اور اس کو زندہ اور قائم رکھنے والا اور اس کو نشو ونما دینے والا بھی ہمارا زندہ خدا ہے۔ایک اور عیسائی مصنف کا اعتراف بھی سنئے۔وہ اپنی کتاب ویلٹ بیویگینڈے ماخٹ اسلامز میں لکھتے ہیں : " آج اسلام عقائد کی اشاعت کے لئے تلوار استعمال نہیں کر رہا۔مقدس جنگ کا رخ صرف باقی استعماری طاقتوں کی طرف ہے لیکن امن پسند جماعت احمد یہ کرہ ارض کے تقریباً تمام ممالک میں تبلیغی مہمات میں مصروف ہے۔۔۔۔۔یہی جماعت ہے جو مسیحیوں کو حلقہ اسلام میں کھینچ لانے کے لئے پر زور تبلیغ کر رہی ہے۔ہم نے قبل ازیں مسلمانوں کے اندر مسیحیت کی تبلیغ میں مشکلات کا ذکر کیا ہے اب اس جماعت کی تبلیغی مساعی کا ہدف خود مسیحیت بن گئی ہے۔اس جماعت نے یورپ، امریکہ، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں مشنوں کے قیام کے ذریعہ مسیحی دنیا میں ایک رخنہ ، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا ہو ڈال دیا ہے۔یہ جماعت موثر پرو پیگنڈہ کا نظام رکھتی ہے۔تقاریر کی جاتی ہیں۔اخبارات شائع کئے جاتے ہیں اور ریڈیو کو اپنے 66 خیالات کی اشاعت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح ایک جرمن مستشرق پروفیسر کیلر ہال (Keeler Hall) نے جماعت احمدیہ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے۔