خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 96
خطبات طاہر جلد۴ 96 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء خلاف گندے اتہامات لگائے گئے ہیں۔اس کے مصنف ہیں ڈاکٹر احمد شاہ شائق سابق میڈیکل آفیسر لیہ۔لداخ ملک تبت خورد اور یہ کتاب پر شوتم داس عیسائی نے گوجرانوالہ شعلہ پر لیس سے شائع کی۔اس دور کے بارہ میں اسلام کے ان نام نہاد مجاہدین اسلام کو یہ عجیب و غریب بات سو جبھی ہے کہ عیسائیت اور انگریزی سلطنت کے مفاد کی حفاظت کا الزام ایک ایسے شخص پر عائد کرتے ہیں جس نے انگریزوں کے خدا ہی کو مار دیا اور جس نے عیسائیت کی بنیادوں پر ایسے حملے کئے کہ عیسائیت کو اپنی جان چھڑانی ممکن نہ رہی۔کیا یہ ترکیب ہے احمدیت کے دشمنوں کے نزدیک انگریزی حکومت کی جس سے اس عظیم مفاد کی حفاظت اور عیسائیت کے فروغ کی توقع کی گئی تھی اور جس سے عیسائی حکومت کی جڑیں مضبوط ہونے اور استحکام حاصل ہونے کی انگریز کو امید تھی ؟ کیا ان اغراض کے لئے انگریزوں نے اپنے ہاتھ سے ایک ایسا پودا لگایا جس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اُن کے خدا کے مزعومہ اکلوتے بیٹے ہی کے متعلق یہ اعلان کر دیا کہ وہ طبعی وفات پاچکے ہیں اور اس طرح صلیب کو توڑ کر پارہ پارہ کر دیا اور پھر عیسائیت کے خلاف ایک ایسا عظیم جہاد شروع کیا کہ وہ صرف ہندوستان ہی میں نہیں رہا۔وہ تمام دنیا میں پھیلتا چلا گیا اور آج تک پھیلتا چلا جا رہا ہے۔حیرت کی بات ہے کوئی نہیں جو عقل سے کام لے اور اس الزام پر غور کرے تو معلوم ہو کہ اس کا احمدیت سے دُور کا بھی واسطہ نہیں لیکن عقل سے کام لیں تو معلوم ہو، یہ الزام تو خالی دماغوں کی پیداوار ہے۔۔۔۔آخر اتنی سی بات تو سوچ لینی چاہئے کہ ہم جو بات کہہ رہے ہیں اُس سے نتیجہ کیا نکلتا ہے۔۔۔۔انگریز نے اپنے مفاد کی حفاظت کی خاطر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو کھڑا کیا اور انہوں نے کام یہ کیا کہ انگریزی مذہب پر حملے شروع کر دیئے ، انگریزی سلطنت کے مفادات جن چیزوں سے وابستہ تھے اُن کا قلع قمع شروع کر دیا۔انگریز تو ایک بہت ہی گہری چال چلنے والا حکمران تھا ، وہ سیاست کو خوب سمجھتا تھا۔وہ نہ صرف اپنے مفادات ہی سے پوری طرح آگاہ تھا بلکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ان کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے اپنی ڈپلومیسی (Diplomacy) اور ہوشیاری کے ذریعہ دنیا کے اکثر ممالک پر قبضہ کر لیا تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب انگریزوں کے اقتدار کا۔سورج نصف النہار پر تھا۔چنانچہ یہ کہا جاتا تھا کہ انگریزی حکومت اتنی وسیع ہے کہ اس پر سورج غروب