خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1014
خطبات طاہر جلد۴ 1014 خطبه جمعه ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء کہ ایک ٹھوس دیوار ہے جو سامنے حائل ہے کہ آگے نہیں بڑھنا لیکن اللہ تعالی نے حیرت انگیز فضل فرمایا یہ ساری دیوار میں ٹوٹ گئیں۔اس قوم نے غیر معمولی طور پر ہمیں نئی راہیں عطا کیں اور رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھیلتے پھیلتے جو مجھے آخری فگرز (Figures) یاد ہیں جب میں وقف جدید میں تھا۔تو ایک سو تنتا لیس دیہات میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام قائم ہو چکا تھا۔اور عیسائیوں کے کلیتہ وہاں سے پاؤں اکھڑ گئے تھے۔شروع ہی میں معلمین وقف جدید کی طرف سے جب یہ تقاضے ہوئے کہ ہمیں بھی مدد کے سیکچھ دیا جائے ورنہ یہ لوگ عیسائیوں کی جھولی میں چلے جائیں گے تو میں نے بہت ہی اصرار کے ساتھ ان کو اس بات سے رو کے رکھا۔میں نے کہا کہ اگر دولت تقسیم کرنے کا مقابلہ ہوا تو ہم تو عیسائیوں کے مقابل پر ہزارواں لاکھواں حصہ بھی خرچ نہیں کر سکتے اور دوسرے یہ کہ جس قوم کو ہم نئی زندگی عطا کرنا چاہتے ہیں اس کے اچھے اخلاق کو بھی گندگی میں تبدیل کر دیں یہ کیسے ممکن ہے۔ان میں خودداری ہے، ان میں لین دین کے اچھے معاملات کی عادت ہے، لین دین کی تمیز ہے، محنت کی عادت پائی جاتی ہے، اگر ہم ان کو بھکاری بنا دیں تو اس اسلام کا ان کو کیا فائدہ۔ہم تو پسماندہ اقوام کو اٹھا کر انسانی سطح پہ بلند کرنا چاہتے ہیں تو ہر پہلو سے یہ بات غلط ہے۔چنانچہ وقف جدید نے شروع سے ہی یہ مصمم ارادہ کیا ہوا تھا اور اس پر آخری وقت تک عمل رہا ابھی بھی اسی پر عمل ہے کہ ان کو بھک منگا نہیں بنانا۔ہاں بعض دوسری صورتوں میں اگر جب بھی ممکن ہو ان کی مدد اس رنگ میں کی جائے کہ ان کو سود کی لعنت سے بچایا جائے۔چنانچہ ہم نے فصلوں کی کاشت کے وقت ان کو بعض جگہ قرضے دینے شروع کئے خصوصاً ان سالوں میں جب کہ بہت زیادہ حالات خراب ہوتے تھے۔وقف جدید کی بہت ہی معمولی حیثیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کاموں میں برکت ڈال دیتا ہے۔بیج ہم نے بھی پہلے سے لے کر رکھنا شروع کر دیا اور وقت کے اوپر ان کو گندم یا باجرے کا بیج اصل قیمت پہ دیتے تھے۔نہ صرف یہ کہ سود نہیں بلکہ منافع بھی کوئی نہیں ہوتا تھا۔کوئی کاغذی لین دین نہیں تھا اگر وہ لے کر بھاگنا چاہتے تو سب کچھ لے کر بھاگ جاتے لیکن خدا کے فضل کے ساتھ ایک آنہ بھی ضائع نہیں ہوا۔اس سے آپ اندازہ کریں کہ ان کا قومی کردار کتنا بلند ہے۔پاکستان کے کسی اور علاقے میں کتنی لکھت پڑھت کریں، روپے کی حفاظت کا کتنا انتظام کر لیں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سارا روپیہ واپس آ جائے اور اگر بے احتیاطی کریں تو یہ ممکن ہے کہ