خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1005
خطبات طاہر جلدم 1005 خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء پر سلامتی ہو صلوات اور طیبات کا حق تو تو نے ادا کیا تھا تجھ پر سلامتی ہو اور ان لوگوں پر جنہوں نے تجھ سے گر سیکھے ان مومنین پر جنہوں نے تجھ سے یہ فیض پایا۔پس جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نماز کے ہر ہر کلے میں نماز کی ہر ہر ادا میں ایک گہرا فلسفہ ہے، گہرے پیغامات ہیں ، لا متناہی ترقیات کے دروازے کھلتے ہیں ہر ہر کلمے پر اور پھر ایسے ایسے جہان کھلتے ہیں کہ جن کی سیر خود اپنی ذات میں لامتناہی ہو جاتی ہے۔ساری عمر یہ نمازیں ایک انسان پڑھتا رہے اور عرفان کے ساتھ پڑھتا ر ہے ان نمازوں میں ڈوب کر پڑھتا رہے تب بھی حقیقت یہ ہے کہ وہ اس عالم کی پوری سیر نہیں کر سکتا لیکن جسے سیر کے مواقع ملے ہوں اور غفلت کی حالت میں گزر جائے اس بے چارے کے پہلے کیا آئے گا ، اس کے ہاتھ میں کیا آئے گا۔اس لئے جب ان سب باتوں پر انسان غور کرتا ہے تو مزید بجز پیدا ہوتا ہے، مزید خدا کے حضور روح سجدہ ریز ہوتی ہے اس کے حضور انسان کا وجود رکوع میں چلا جاتا ہے۔پس رکوع اور سجود کی کیفیت پیدا کریں اپنی نمازوں میں اور خدا تعالیٰ کی حمد کے وہ گیت گائیں جس کے نتیجے میں خدا خود فرمائے۔سمع الله لمن حمدہ اللہ نے سن لی ہے اپنے ان بندوں کی جنہوں نے اس کی تعریف کی جنہوں نے اس کی حمد کے گیت گائے۔میں آخر پر آپ کو اس تعلق میں ایسا ایک عجیب واقعہ بتانا چاہتا ہوں جو گزشتہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہوا اور اس کا گہرا تعلق اسی مضمون سے ہے۔گزشتہ جمعہ کو چونکہ نماز کا ہی مضمون چل رہا تھا۔جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو تہجد کی نماز میں مجھ سے ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جو بعض پہلوؤں سے حیرت انگیز ہے۔تہجد کی نماز شروع ہوتے ہی مجھے یوں محسوس ہوا محسوس نہیں کہنا چاہئے بلکہ اچانک میں گویا کہ ڈاکٹر حمید الرحمن بن گیا۔ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب جن کا میں ذکر کر رہا ہوں اس وقت وہ تو ایک Symbol کے طور پر آئے تھے مگر میں پہلے ان کا تعارف کروا دوں۔ڈاکٹر حمید الرحمن ہمارے ایک نہایت ہی مخلص فدائی احمدی جو صوبہ سرحد سے متعلق رکھتے تھے خلیل الرحمن صاحب ان کے صاحبزادہ ہیں اور امریکہ میں ڈاکٹر ہیں اور ڈاکٹر پروفیسر عبدالسلام صاحب کے داماد ہیں اور بہت نیک پاک طینت رکھتے ہیں۔سلسلہ کے کاموں میں قربانیوں میں پیش پیش۔سادہ منکسر المزاج اور جہاں تک انسانی نگاہ کا تعلق ہے تقوی شعار انسان ہیں۔