خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1002 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1002

خطبات طاہر جلد۴ 1002 خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء زیادہ آپ کو عظمتیں نصیب ہوتی چلی جائیں گی اسکے علو کی بھی کوئی انتہاء نہیں ہے جتنا زیادہ آپ اسکے علو کے مفہوم کو سمجھتے چلے جائیں گے اتنا ہی زیادہ آپ کو علو مرتبت نصیب ہوتی چلی جائے گی۔پس جہاں میں جماعت کو بار بار نماز کے قیام کی تلقین کر رہا ہوں وہاں نمازوں کو مغز اور روح سے بھرنے کی بھی تلقین کر رہا ہوں کیونکہ قیام نماز سے مراد محض ظاہری قیام نہیں بلکہ نماز کی روح کو قائم کرنا ہے۔اس پہلو سے نماز کی حیثیت ویسی ہی ہوگی جیسے پھل ہو جو رس سے بھرا ہوا ہو، اگر وہ رس سے بھرا ہوا نہیں اور خالی ہے تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا بعض دفعہ وہ نقصان کا موجب بھی بن جاتا ہے۔جب ایک انسان نماز شروع کرتا ہے تو اس کی کیفیت ایسی ہی ہے جیسے ایک سرکنڈا ہود یکھنے میں خوبصورت نظر آتا ہے اور نیشکر سے ملتی ہے اسکی شکل یعنی وہ گرتا جس سے میٹھا رس نکلتا ہے اسکے بالکل مشابہ ہوتا ہے اور ظاہری صفات میں ویسا ہی نظر بھی آتا ہے یا نیشکر ہولیکن ابتدائی حالت میں وہ بظاہر وہ گنا ہی کہلائے گا لیکن فی الحقیقت اس کی صفات اس وقت سرکنڈے سے ملتی جلتی ہیں۔تو نماز صرف نماز کو ظاہری شکل دینا مقصود نہیں ہے۔وہ اگلے اقدامات بھی کریں جس سے نماز رس سے بھر نے لگے اس کے اندر ایک روح پیدا ہو جائے اور نماز کو بھی ایک خلقِ آخر عطا ہو جائے ، اچانک وہ مادی چیزوں سے نکل کر ایک زندہ چیز ایک روحانی چیز میں تبدیل ہو جائے۔اس کے لئے ایک لمبی جدو جہد کی ضرورت ہے اور نماز کے ہر ہر لفظ میں جتنا بھی آپ غور کریں گے بہت سی ایسی باتیں نظر آئیں گی جس سے آپ کو نماز قائم کرنے میں مددملتی چلی جائے گی۔پس ہر لفظ پر غور کریں اور کوشش کریں اس کے معانی کو پانے اور پھر معانی کو اپنانے کی۔کوئی ایک لفظ بھی نماز میں ایسا استعمال نہیں ہوا جس کے اندر گہرائی اور وسعت نہ پائی جاتی ہو۔سجدوں کے بعد آپ بیٹھتے ہیں تو پہلا کلمہ خدا کے حضور یہ عرض کرتے ہیں: التحیات پھر کہتے ہیں والصلوات والطيبات ـ التحیات کیا چیز ہے۔التحیات کا تو مطلب ہے تحفے جب آپ لفظ التحیات کہتے ہیں تو فوراً ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ میں عاجز حقیر انسان خدا سے مانگنے نکلا تھا اس کی چوکھٹ پر اپنا سر رکھ دیا میں کیا تھے پیش کروں گا۔اور التحیات للہ کہہ کر یہ بھی فرما دیا کہ تحفے ہیں ہی دراصل خدا کے لئے۔اور ہر قسم کے تحفے خدا تعالیٰ کے لئے ہیں اس لفظ پر بھی جب آپ غور کرنے لگیں تو نماز کی نئی لذت آپ کو نصیب ہو جائے گی۔نماز کو عمدگی سے ادا کرنے کے لئے