خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 996
996 خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء خطبات طاہر جلدم گیا اور اللہ تعالیٰ کو الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرہ:۲۵۲) بھی فرمایا گیا ہے تو یہ لفظ اپنی ذات میں بہت ہی وسعت رکھتا ہے۔جب ہم سبحان ربی العظیم کہتے ہیں تو اس وقت یہ معنی تقسیم ہو جاتے ہیں وہ سارے معنی جو برے ہیں وہ کٹ کر الگ ہو جاتے ہیں اور عظیم کے وہی معنی باقی رہ جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے ساتھ نسبت رکھ کے اپنے اندر حسن پیدا کر لیتے ہیں۔تو واضح پیغام پہلا پیغام ہمیں یہ ملا کہ محض عظمتیں کوئی چیز نہیں۔ہیں محض بڑی نظر آنے والی چیزیں، رعب دار چیزیں جن سے انسان مرعوب ہو جائے اور اپنے آپ کو چھوٹا محسوس کرے یہ اپنی ذات میں ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں۔عظمت وہی ہے جو رب کی طرف منسوب ہو۔عظمتیں وہی ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نصیب ہوں۔پس عظمت کا تصور فی ذاتہ انسان کو غلط رستوں کی طرف جو لے جاسکتا تھا ، رکوع نے وہ آدھے رستے جو غلط سمتوں میں جانے تھے اُن کے آگے روکیں کھڑی کر دیں، دیوار بنادی اور صرف اچھی عظمتوں کی طرف جانے کی تمنا پیدا کر دی۔اور ” میرا رب کہہ کر سبحان ربی العظیم ایک امید پیدا کر دی کہ ان عظمتوں کو تم حاصل بھی کر سکو گے کیونکہ یہ ساری عظمتیں تمہارے رب کے پاس ہیں۔جب کہتے ہو ” میرا رب تو مراد ہے ہاں وہ رب جس سے میں یہ سب کچھ حاصل کر سکتا ہوں ، جو میرا مالک اور میرا خالق ہے اور جتنا میں اس سے تعلق بڑھاؤں گا اتنا ہی اچھی عظمتیں مجھے نصیب ہوں گی۔دوسرے لفظ عظیم میں اپنی ذات میں ایک ایسی عظمت پائی جاتی ہے جو باقی صفات باری تعالیٰ سے اس لفظ کوممتاز کر رہی ہے۔کوئی ایک بھی صفت ایسی نہیں جس کو دوسری صفت پر چسپاں کیا جا سکے یعنی دوسری ہر صفت پر چسپاں کیا جا سکے۔مثلاً آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بڑا رحیم منتظم ہے یا اگر یہ کہہ بھی سکیں ایک خاص عارفانہ معنوں میں تو یہ نہیں کہیں گے کہ اول منتقم ہے آخر منتقم ہے ، باطن منتقم ہے، نم ہے، رحمن منتظم ہے، غفور منتظم ہے۔بعض صفات بعض صفات کے ساتھ جوڑ کھا جائیں گی اور بعض صفات بعض صفات کے اوپر چسپاں نہیں ہو سکتیں۔مگر خدا تعالیٰ کی صفتِ عظیمیت ہر دوسری صفت کے ساتھ لگ کر اس میں عظمت کے معنی پیدا کر دیتی ہے وہ عظیم رحمان ہے ، وہ عظیم غفور ہے وہ عظیم رحیم ہے ، وہ عظیم منتقم ہے ، وہ عظیم باطن ہے، وہ عظیم ظاہر ہے ، وہ عظیم اول ہے ، وہ عظیم آخر ہے۔تو اس لفظ کے اندر جو عظمت پائی جاتی ہے وہ اس میں اتنی وسعت پیدا کر دیتی ہے کہ تمام صفات ظاہر