خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 995
خطبات طاہر جلدم 995 خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء ہیں اور غور کے نتیجے میں خدا کی صفات ان کے اندر نئی شان کے ساتھ جنم لینے لگتی ہیں گویا، ان کے وجود میں بھی اور ان کے تصورات میں بھی اور پھر جب وہ ایک لفظ عظیم کہتے ہیں تو ان کا خدا کو عظیم کہنا دوسرے لوگوں کے عظیم کہنے کے برابر نہیں ہوسکتا یا یوں کہنا چاہئے کہ عام لوگوں کا خدا کو عظیم کہنا اُن لوگوں کے عظیم کہنے کے برابر نہیں ہو سکتا جنہوں نے خدا کی عظمتوں پر غور کیا ہو اور اس کی عظمتوں کو پہچانا ہو اور اس کی عظمتوں کو اپنے وجود پر وارد کیا ہو۔اسی طرح علو کا مضمون ہے۔اس میں بھی بہت ہی وسعتیں ہیں۔تو ان پر جتنا آپ غور کریں گے اتنا ہی زیادہ آپ کے رکوع اور آپ کے سجدے میں اللہ تعالیٰ برکتیں رکھ دے گا اور اتنا ہی زیادہ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ، آپ کے حق میں پورا ہوگا۔چنانچہ اس حکمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں آپ کے سامنے مثال کے طور پر لفظ عظیم کو رکھتا ہوں اور اس کی وضاحت کرتا ہوں۔ویسے تو بہت ہی لمبا اور بڑا مضمون ہے لیکن مختصراً سمجھانے کے لئے میں نے چند باتیں چنی ہیں۔سب سے پہلی بات عظیم کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ اپنی ذات میں نہ اچھائی کے معنی رکھتا ہے نہ برائی کے معنی رکھتا ہے بلکہ نہایت بری چیزوں کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور نہایت اچھی چیزوں کیلئے بھی بولا جاتا ہے۔مثلاً عَذَابٌ عَظِيمٌ (البقرہ: ۱۱۵) قرآن کریم میں آتا ہے اور اسی طرح اور بہت سی ایسی چیزیں جو مکروہات میں یا نہایت ہی خوفناک حیثیت رکھنے والی چیزیں ہیں ان کے متعلق بھی عظیم کا لفظ بولا گیا ہے۔عذاب عظیم کے مقابل پرمَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ (الحجرات : ۴) بھی بولا گیا ہے۔اسی طرح الْخِزُ الْعَظِيمُ (التوبہ: ۶۳) قرآن کریم میں بہت ہی بڑی ذلت اور رسوائی کیلئے الْخِزْئُ الْعَظِيمُ کا لفظ آیا اور اس کے مقابل پر پھر الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبۃ :۷۲۰) بھی فرمایا کہ بہت ہی بڑی کامیابی۔پھر الْحِنْثِ الْعَظِيمِ (الواقعۃ : ۴۷) فرمایا یعنی ایسا گناہ جو بہت ہی بڑا ہو اور اس کے مقابل پر آنحضرت علی کے متعلق فرمایا إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم: ۵) تو بہت ہی بڑے خلق پر واقع ہوا ہے، تیرا خلق بہت بلند ہے۔اسی طرح حَظِّ عَظِيمٍ (القصص:۸۰) برے معنوں میں بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ذُو حَظِّ عَظِيمٍ (تم اسجدہ: ۳۶) کا محاورہ بعینہ ایک دوسرے سے بالکل مخالف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔مُلكًا عَظِيمًا (النساء:۵۵) بھی فرمایا