خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 994 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 994

خطبات طاہر جلدم 994 خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۸۵ء تلاوت کیا ہے یعنی وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ یہ اس لئے تلاوت کیا ہے کہ اس میں دوصفات باری تعالیٰ کا ذکر ملتا ہے جن کا نماز سے بھی گہرا تعلق ہے۔خدا تعالیٰ کے علو اور اس کی عظمت کا ذکر ملتا ہے اور رکوع میں ہم خدا کی عظمت کے گیت گاتے ہیں اور سجدہ میں اس کے علو مرتبت کے گیت گاتے ہیں۔اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نماز کے ارکان میں جو امتیازی شان رکوع اور سجود کو حاصل ہے ویسی اور کسی رکن کو حاصل نہیں۔تو گویا رکوع اور سجدہ نماز کا معراج ہیں اور ان کے لئے خدا تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ اپنی حمد میں سے یہ دوصفات چنیں: عظیم اور اعلیٰ۔میں غور کرتا رہا کہ کیا وجہ ہے کہ کیوں ہر حرکت سے پہلے اللہ اکبر کہنے کا حکم ہے لیکن رکوع سے بلند ہوتے وقت اللہ اکبر کی بجائے ہم سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے ہیں۔تو اس کی دو وجوہات مجھے سمجھ آئیں اول یہ کہ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک ظاہری حرکات کی مناسبت کا تعلق ہے رکوع سے سجدہ اگلام قدم ہے لیکن رکوع سے سیدھا اگر سجدے میں چلے جائیں تو اس سے سجدے اور قیام کے درمیان جو نمایاں امتیاز پیدا ہوتا ہے وہ امتیاز پیدا نہیں ہو سکتا۔سجدے میں جو عاجزی کی شان ہے ویسی شان نہیں بن سکتی جب تک کھڑی حالت میں انسان سجدے میں نہ گرے۔اس لئے دراصل ایک Interlude ہے یہ۔جب ہم کھڑے ہوتے ہیں دوسری مرتبہ سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر تو رکوع اور سجدے کے درمیان ایک وقفے کی حالت ہے۔جس سے سجدے کی عظمت کو نمایاں کرنا مقصود ہے۔دوسری وجہ یہ سمجھ آئی کہ حمد کا معراج ہے عظیم اور اعلیٰ اور ان دونوں کے مابین سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه کہہ کر یہ مطلع فرمایا گیا کہ وہ جو خدا کی عظمت اور اس کے علو کے گیت گانے والے ہیں انہیں خوش خبری ہو ، مبارک ہو ان کو کہ ان کی دعائیں سنی گئیں۔اس پہلو سے جب خدا کے عظیم ہونے اور اس کے اعلیٰ ہونے پر غور کیا جائے تو سجدے میں بھی اور رکوع میں بھی بہت زیادہ گہرائی پیدا ہو جاتی ہے اور بہت زیادہ عظمت عطاء ہوتی ہے۔یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہرغور اسی حالت میں کیا جائے بلکہ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمُ ( آل عمران : ۱۹۲) سے پتہ چلتا ہے کہ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے مومن صفات باری تعالیٰ پر غور کرتے رہتے