خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 993
خطبات طاہر جلدم 993 خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۸۵ء اللہ تعالیٰ کی صفت عظیم اور اعلیٰ کا بیان نیز حضور کی رؤیا کہ میں حمید الرحمن بن گیا ہوں ( خطبه جمعه فرموده ۲۰ دسمبر ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقره: ۲۵۶) اور پھر فرمایا: سورۂ فاتحہ کو جو مقام سورتوں میں حاصل ہے وہی مقام آیتہ الکرسی کو آیات قرآنی میں حاصل ہے۔ایک ایسی آیت ہے جو ایک غیر معمولی شان اور غیر معمولی امتیاز رکھتی ہے اور اس شان کی آیت تمام دنیا کی کتب بھی ڈھونڈیں یعنی سماوی کتب کو ڈھونڈیں اور تلاش کریں تو اس کی کہیں آپ کو نظیر نہیں ملے گی۔ویسے تو قرآن کریم کی کسی آیت کی بھی نظیر بنانا ممکن نہیں مگر جب ہم یہ کہتے ہیں تو مراد ہے غیر اللہ کے لئے لیکن جب میں یہ کہ رہا ہوں کہ دوسری کتب میں اس کی نظیر نہیں ملتی تو مراد یہ ہے کہ سماوی کتب، میں دوسرے ادیان کی کتب میں کوئی آیت بھی اس شان کی آیت آپ کو نظر نہیں آئے گی جو آیت الکرسی ہے۔لیکن اس کی تفسیر کی غرض سے میں یہاں اس وقت نہیں کھڑا ہوا۔اس کا جو آخری حصہ میں نے