خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد ۳ 145 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء ہے اسی مضمون کو مزید واضح فرما دیا ، پہلے یہ کہو کہ میں اتنا گنہگار ہوں کہ گناہوں میں میں نے حد کر دی ہے تو اپنی جناب سے اپنے حضور سے عطا فرما دے۔وَارحَمنِی اور میرا معاملہ تو رحم کا ہے استحقاق کا نہیں ہے، تو رحم فرما ! إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيم تو بہت بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔اس رنگ میں جماعت احمدیہ کو استغفار کرنی چاہئے۔اول آنحضور ﷺ کی سنت پر چلتے ہوئے گناہوں سے بچنے کی بکثرت استغفار، دوسرے ان گناہوں سے تو بہ اس رنگ میں جس رنگ میں آنحضور ﷺ نے واضح فرمایا اور دعاؤں میں نہایت عجز اور انکساری۔یہاں یہ مسئلہ بھی حل فرما دیا آنحضور ﷺ نے کہ نماز میں کوئی اور دعا جائز ہے کہ نہیں ؟ یہ جو لوگ کہتے ہیں نماز کے بعد دعا کرنی چاہئے یہ حدیث اس تصور کو قطع کر رہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نماز میں مسنون الفاظ کے سوا اور کوئی الفاظ نہیں کہے جاسکتے حالانکہ آنحضرت عمیلہ حضرت ابو بکر کو اس سوال کے جواب میں یہ دعا سکھا رہے ہیں کہ یا رسول اللہ ! مجھے نماز میں دعا کرنے کے لئے کوئی دعا بتائیے۔پس اس دعا کو التزام سے جماعت احمد یہ اپنے لئے اختیار کر لے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اب جب کہ امن کی حالت میں ہو اپنے لئے استغفار کرو۔جب وہ وقت آجائے کہ خدا کے عذاب پہنچ جائیں اور قوموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں وہ وقت استغفار کا نہیں ہوتا۔( ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۷۳۰) پس آج جو تم استغفار کرو گے وہ مشکل وقتوں میں تمہارے کام آئے گی اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ دنیا بڑی تیزی کے ساتھ تباہی کی طرف جارہی ہے اور بہت ہی شدید مصائب دنیا پر پڑنے والے ہیں اور کوئی ملک جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیشگوئی فرمائی تھی ان خطرات سے امن میں نہیں ہوگا۔نہ جزائر کے رہنے والے، نہ ہندوستان ، نہ پاکستان، نہ پنجاب کے لوگ اور بہت بڑی تباہیاں آنے والی ہیں۔چند سال کا واقع ہو یا چند اور سال کا لیکن اب یہ مقدر ہو چکا ہے۔انسان کے اعمال اتنے سیاہ ہو چکے ہیں اور اس کی جرات خدا تعالیٰ کے خلاف اتنی بڑھ چکی ہے اور اس کے مظالم اس انتہا کو پہنچ چکے ہیں کہ جب یہ واقعات اس شدت سے ہونے لگیں تو اللہ کی پکڑ آجایا کرتی ہے اس لئے استغفار کریں اور کثرت کے ساتھ استغفار کریں کیونکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو استغفار کرتا ہے اور اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے اس وقت، اس کے دل کے کسی ذرہ کو بھی آگ نہیں پہنچ سکتی۔کسی حصہ پر بھی خدا تعالیٰ کا