خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 92

خطبات طاہر جلد ۳ 92 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء طرز بیان ہے بہت ہی پیارا یہ بتانے کے لئے کہ اگر کچی تو بہ ہو تو مرتے دم تک انسان گھسٹ گھسٹ کر بھی تو بہ سے خدا تک جانے کی کوشش کرتا ہے اور یہ آخری ایک بالشت تھی جس نے اس کو بچالیا۔صحیح مسلم کتاب التو به باب قبول توبته القاتل وان کثر قتله ) اور ایک اور روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ جس فرشتے کو ثالث بنایا گیا تھا وہ جب زمین ناپ رہا تھا گناہ والی بستی کی طرف کی تو زمین سکڑ جاتی تھی اور چھوٹی ہوتی جاتی تھی اور جب وہ اس طرف کی زمین ناپتا تھا جس طرف اس کے لئے بخشش مقدر تھی تو وہ زمین پھیلتی چلی جاتی تھی اور فاصلہ بڑھتا چلا جاتا تھا۔تو یہ ہے تو اب خدا جو اپنے بندوں پر اس طرح بار بار رحمت فرماتا ہے اور اس کی بخشش کی کوئی حد نہیں۔اس کے باوجود اگر انسان گناہوں پر اصرار کرے اور اپنے رب کی طرف توجہ نہ کرے تو بہت ہی بد بختی ہوگی کہ تو بہ کی حالت میں جان دینے کی بجائے وہ گناہ کی حالت پر اصرار کرتے ہوئے جان دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو بہ کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تو بہ اس بات کا نام نہیں کہ صرف منہ سے تو بہ کا لفظ کہہ دیا جاوے بلکہ حقیقی تو یہ یہ ہے کہ نفس کی قربانی کی جاوے۔جو شخص تو بہ کرتا ہے وہ اپنے نفس پر انقلاب ڈالتا ہے گویا دوسرے لفظوں میں وہ مرجاتا ہے۔خدا کے لئے جو تغیر عظیم انسان دکھ اٹھا کر کرتا ہے تو اس کی گزشتہ بداعمالیوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔جس قدر نا جائز ذرائع معاش کے اس نے اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کو وہ ترک کرتا ہے، عزیز دوستوں اور یاروں سے جدا ہوتا ہے، برادری اور قوم کو اس خدا کے واسطے ترک کرنا پڑتا ہے۔جب اس کا صدق کمال تک پہنچ جاتا ہے تو وہی ذات پاک تقاضا کرتی ہے کہ اس قدر قربانیاں جو اس نے کی ہیں اس کے اعمال کے لئے کافی کفارہ ثابت ہوں“۔( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۴۴۴۳) ایک اور جگہ فرماتے ہیں: تو بہ کے معنے ہی یہ ہیں کہ گناہ کو ترک کرنا اور خدا تعالیٰ کی طرف