خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 91

خطبات طاہر جلد ۳ 91 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء آنحضرت ہے اس انسانی فطرت کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں کہ ننانوے اس نے کئے تھے یعنی خدا نے اسے گناہ کی جو طاقت دی تھی اور اس کے اندر جو سرشت موجود تھی خدا نے جو طاقت دی ان معنوں میں تو نہیں کہا جاتا مگر جو بھی خدا نے اس کو صفات بخشی تھیں اور اس سے اُن کو غلط طرف مائل کر لیا تھا وہ ابھی درجہ کمال تک نہیں پہنچا تھا۔تو یہاں پہنچ کر وہ درجہ کمال کو پہنچ گیا یعنی پوری طرح اس کا برتن گناہوں سے لبریز ہو گیا۔آنحضور ﷺ فرماتے ہیں تب وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور اس سے اس نے پوچھا کہ میں نے سو قتل کئے ہیں کیا میرے لئے کوئی گنجائش ہے کہ میں تو بہ کروں اور اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے؟ تو اس راہب نے کہا کہ ہاں اللہ تعالیٰ کی بخشش کی تو کوئی انتہا نہیں ہے۔اگر تم تو بہ کرو تو وہ تمہیں معاف کر سکتا ہے۔اس نے اس سے پوچھا کہ پھر مجھے رستہ بتاؤ کہ میں کیسے تو بہ کروں؟ راہب نے جواب دیا کہ جس بستی میں تم رہتے ہو وہ گندے لوگوں کی بستی ہے۔اگر تم واپس اس بستی میں لوٹ گئے تو تم پھر گناہ کی طرف مائل ہو جاؤ گے۔میں ایک ایسی بستی کو جانتا ہوں جہاں خدا کے نیک عبادت گزار بندے رہتے ہیں جو دن رات اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہتے ہیں۔اگر تم اس بستی تک پہنچ جاؤ اور ان کے ساتھ شامل ہو کر اللہ کی یاد میں بقیہ زندگی بسر کرو تو میں تمہیں یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ تمہاری توبہ قبول ہو جائے گی۔یہ سن کر وہ اپنی بستی کی طرف واپس جانے کی بجائے اس بستی کی طرف چل پڑا۔آنحضور ﷺ فرماتے ہیں لیکن راستے ہی میں وہ مرگیا لیکن اس حالت میں اس نے جان دی کہ چھاتی کے بل گھسٹتا ہوا اس بستی کی طرف حرکت کر رہا تھا جہاں اس کو گناہ بخشنے کی خوشخبری دی گئی تھی۔اس پر خدا تعالیٰ نے بخشش اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان یہ جھگڑا دیکھا کہ بخشش کے فرشتے کہتے تھے کہ یہ تو بہ کی طرف مائل تھا اور اس طرف جاتے ہوئے مرا ہے اور عذاب کے فرشتے کہتے تھے کہ ابھی کہاں تو بہ اس کی ! اس نے تو ابھی تو بہ کا ارادہ ہی کیا تھا اور ابھی بہت فاصلہ تھا اس کے اور توبہ کے درمیان تو اللہ تعالیٰ نے ایک اور فرشتے کو انسانی شکل میں متمثل فرما کر ان کے سامنے بھیجا اور ان کو یہ ارشاد ہوا کہ اس کو ثالث بنالیا جائے۔چنانچہ اس انسانی شکل میں متمثل ہونے والے فرشتے نے اس کا فاصلہ ناپا کہ جس بستی سے وہ چلا تھا مرتے وقت اس سے کتنا فاصلہ تھا اور جس بستی کی طرف جا رہا تھا اس سے کتنا فاصلہ تھا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ وہ گھٹتے گھسٹتے ایک بالشت ( نیک لوگوں کی بستی کی طرف زیادہ) نصف سے آگے بڑھ چکا تھا۔یہ ایک