خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 88
خطبات طاہر جلد ۳ 88 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء والزهد ) پس آخری حالت ہی فیصلہ کرے گی کہ خدا تعالیٰ پر اس کی بخشش تو بہ کے نتیجہ میں فرض ہے کہ نہیں اس لئے نیک انجام کے لئے لوگ دعاؤں کے لئے کہتے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ ہمارا انجام بالخیر ہو۔سنن ابن ماجہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ گناہ سے بچی تو بہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔(ابن ماجہ کتاب الزهد باب ذکر التوبہ ) جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا یعنی گناہ کے محرکات اسے بدی کی طرف مائل نہیں کر سکتے۔گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا کی تشریح خود آنحضور ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ یہ مطلب نہیں کہ تم تو بہ کے ساتھ گناہ پر اصرار کرتے چلے جاؤ اور تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔فرمایا اگر اللہ تم سے محبت کرتا ہے تو گناہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا یعنی گناہ سے تمہیں نفرت ہو جائے گی ہم پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا، اگر اثر انداز ہوگا تو نقصان ضرور پہنچائے گا۔پس نہ نقصان پہنچانے کا یہ مطلب ہے آنحضور ﷺ کے اپنے الفاظ میں کہ گناہ کے محرکات اسے بدی کی طرف مائل نہیں کر سکتے اور گناہ کے بد نتائج سے اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھتا ہے یعنی سابقہ گنا ہوں سے یہ سلوک فرماتا ہے کہ ان کے بدنتائج سے محفوظ کر دیتا ہے اور آئندہ یہ سلوک فرماتا ہے کہ گناہ کی طرف میلان ہٹ جاتا ہے۔پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی کہ تو بہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ! تو بہ کی علامت کیا ہے؟ فرمایا سچی ندامت اور پشیمانی تو بہ کی علامت ہیں۔حضرت حارث بن سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحیح مسلم میں روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ کی بیماری کے دوران میں ان کی عیادت کو گیا۔تو انہوں نے دو حدیثیں بیان کیں۔ایک تو اپنے بارہ میں تھی اور دوسرے رسول کریم ﷺ کے بارہ میں۔انہوں نے کہا میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ خدا تعالیٰ اپنے مومن بندہ کی تو بہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی بے آب و گیاہ جنگل میں ہو کسی صحرا میں جہاں نہ پانی ہو اور نہ سبزہ ہو، اس کے پاس اس کی سواری ہو جس پر اس نے اپنے کھانے پینے کا سامان لا درکھا ہو۔وہ شخص کسی جگہ ستانے کے لئے لیٹ جائے اور اسے نیند آ جائے لیکن جب جاگے تو دیکھے کہ اس کی سواری گم ہوگئی ہے۔وہ اس کی