خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 3
خطبات طاہر جلد ۳ 3 خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۴ء وقف جدید نے سرانجام دی ہے اور دے رہی ہے۔اس کے لئے صرف روپیہ کافی نہیں بلکہ وقف کی روح رکھنے والے واقفین کی بہت ضرورت ہے۔اسی طرح وقف عارضی والے بھی ایسے چاہئیں جو کسی نہ کسی فن میں مہارت رکھتے ہوں اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں اور غریبوں کی ہمدردی رکھتے ہوں۔ڈاکٹر ہیں اور تاجر ہیں مختلف قسم کے موقع پر جائیں اور دیکھیں کہ ان لوگوں کی کیا مدد ہو سکتی ہے اور کس طرح ان کی دلداری کی جاسکتی ہے اور مؤلفة القلوب کے حکم کی پیروی میں ان کے دلوں کی تالیف کے نئے رستے کون سے ڈھونڈے جاسکتے ہیں۔کراچی کے کچھ دوستوں نے وقف کیا تھا چند سال پہلے ان میں بعض سابق حج بھی تھے، بعض ڈاکٹر بھی تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے دورے کا بہت ہی اچھا اثر پڑا ، ان لوگوں میں نیا حوصلہ پیدا ہوا ، وہ حیران ہوئے کہ دنیا کے لحاظ سے اتنے بڑے مقام رکھنے والے لوگ ہم سے کس طرح محبت کا سلوک کر رہے ہیں، ہمارے برتنوں میں پانی پیتے ہیں جبکہ باقی دنیا ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو اسلام کی خدمت کے لئے یہ ایک بہت بڑا موقع ہے۔وقف عارضی کے لحاظ سے بھی یہ مزید توجہ کی ضرورت ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ جو واقفین اپنے خرچ پر تنگی ترشی سے گزارہ کرتے ہوئے اور مخالف حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے وہاں خدمت سرانجام دینا چاہیں وہ یہ کہہ کر وقف کریں کہ ہمیں اس علاقے میں بھجوایا جائے۔ایک رو چلی ہے امید ہے کہ اگر اسے اور تقویت دی جائے تو بہت جلد سارے ہندو علاقے میں اسلام پھیل سکتا ہے۔تیسری بات جو سب سے اہم ہے وہ میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ آج کل عالم اسلام پر ایک بہت بڑا ابتلا آیا ہوا ہے اور خاص طور پر عرب ممالک بہت ہی دکھ کا شکار ہیں۔ہر طرف سے ان پر مظالم توڑے جارہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ عربوں کو دنیا سے نیست و نابود کر دیا جائے۔اسرائیل کیا اور مغربی طاقتیں کیا اور مشرقی طاقتیں کیا یہ سارے عربوں کو مظالم کا نشانہ بنارہی ہیں اور ان سے کھیل کھیل رہے ہیں۔ہتھیار اس غرض سے دیئے جا رہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں اور جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے اس کے مقابل پر کوئی دنیا کی طاقت بھی سنجیدگی سے اُن کی مدد کرنے کے لئے آمادہ ہی نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کے فیصلے ہیں کہ ایسی حالت میں عربوں کو