خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 74

خطبات طاہر جلد ۳ 74 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ اخْلَدَه جس طرح یہاں بھی مال کا ذکر کیا کہ یہ لوگ، یہ طاقتیں بڑی بڑی جن میں یہ ساری بدیاں پھیل چکی ہوں گی یہ سمجھیں گی کہ ہم ہمیشہ رہیں گی۔فرماتا ہے ہر گز نہیں كَلَّا لَيُنَبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ یہ لوگ سارے کے سارے لازما حطمہ میں ڈالے جائیں وَمَا ادريكَ مَا الْحُطَمَةُ ) اور تجھے کیا چیز بتائے، کیسے سمجھایا جائے کہ حطمہ کیا ہے؟ نَارُ اللهِ الْمَوْقَدَةُ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ ن جو اس بات کا انتظار نہیں کرے گی کہ جسم جلیں تو پھر جان جائے وہ براہ راست دلوں پر جھپٹے گی۔إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ کی وہ ان کے لئے بند کی گئی ہے فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ & ایسے عمود میں جو کھیچ کر لمبے ہو جاتے ہیں Elastic چیز ہو جس طرح یا Spindle کی شکل کی چیز ہو جب اس کے اندر سے دباؤ بڑھتا ہے تو وہ پھیل کر لمبی ہو جاتی ہے مخروطی شکل اختیار کر جاتی ہے اور یہ نقشہ کھینچا ہے کہ یہ آگ حطمہ میں بند کی گئی ہے اور اس وقت پھٹے گی ان پر جب یہ بھیج کر اندرونی دباؤ کے نتیجہ میں لمبی ہو جائے گی۔اب سوال یہ ہے کہ الْحُطَمَةُ کا لفظی معنی کیا ہے۔الْحُطَمَةُ کا لفظی معنی تو ذرہ ہے یعنی ایسی چیز جسے تو ڑ تو ڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا گیا ہو اس کو عربی میں الحُطَمَةُ کہتے ہیں۔اب ظاہر بات ہے کہ کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا خصوصاً حضرت محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ کا انسان تصور ہی نہیں کر سکتا کہ چھوٹے چھوٹے ذروں کے اندر آگ بند کی گئی ہو اور ان کو کھینچ کر لمبا کیا جارہا ہو اور پھر وہ بیضوی شکل یا ستون کی شکل اختیار کر جائیں اور پھر پھٹیں اور پھر وہ آگ ان کے لئے کھول دی جائے۔یہ بظاہر عربی لفظ کے لفظی معنی ہیں اس کے ساتھ اس معنی کا بڑا شدید ٹکراؤ ہے اسی لئے گزشتہ مفسرین کو اس کے معنی کرنے میں ہمیشہ دقت پیش آتی رہی ہے اور وہ کئی طرح سے اس کے معنی کر کے اس مضمون سے نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہاں پہنچ کر اُس زمانہ کا انسان پھنس جاتا ہے جس کے تصور میں ایٹم بم کا کوئی بھی شائبہ نہیں یعنی اس کو خیال بھی نہیں کہ ایٹم بم کی کوئی چیز ہوسکتی ہے لیکن قرآن کریم تو ہر زمانہ کی کتاب ہے اور یہی اس کی سچائی کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے کہ ہر زمانہ کی باتیں کرتا ہے۔اگر ہر زمانہ کی کتاب نہ ہوتی تو ہر زمانہ کی باتیں کیوں کرتی اور اتنا کھول کھول کر کیوں کرتی۔تو الحُطَمَةُ