خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 73

خطبات طاہر جلد ۳ 73 الله خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء ان پر سامنے ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے خدا کی طرف بلاتے ہیں تو یہ متکبر لوگ جو گند میں مبتلا ہیں سر سے پاؤں تک یہ کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں کی کہانیاں ہیں۔چنانچہ انفرادی طور پر بھی مالدار لوگ یا وہ سوسائٹیاں جو متمول ہو جاتی ہیں ان میں یہ بدیاں زیادہ ہوتی ہیں اور قومی لحاظ سے بھی مشرق اور مغرب دونوں میں یہ بدیاں بکثرت پائی گئی ہیں اور دہریت پر منتج ہو رہی ہیں یعنی آخری نقطہ معراج اس بدی کا دہریت ہے۔جب ان کے سامنے پھر مذہب والے باتیں کرتے ہیں تو یہ اپنی طاقت کے نشہ میں اور اپنی بدیوں میں مبتلا ہو کر سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی خدا ہے، واقعتہ کوئی پکڑ دھکڑ ہوگی کوئی سزا جزاء کا نظام ہے، ہماری جواب طلبی ہوگی، ہم جواب دہ ہیں کسی کو ہم مالک نہیں ہیں۔یہ ساری باتیں بھول جاتے ہیں کہتے ہیں اَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ یہ پرانی باتیں ہیں۔سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ ہم اس کی تھوتھنی پر مہر لگا ئیں گے یعنی داغ دیں گے تھوتھنی کو اور عجیب بات ہے کہ حز قیل نبی کی جو پیشگوئی ہے اس میں بھی جوج روس کو مخاطب کر کے تھوتھنی پر مارنے کا ذکر ہے کہ ہم تیری تھوتھنی کو داغ دیں گے۔اصل مراد یہ ہے کہ اس موقع پر پہنچ کر انسان انسان نہیں رہتا اور وہ بحیثیت جانور مخاطب کرنے کے زیادہ لائق ہے۔اللہ تعالیٰ اتار حیم وکریم ہے کہ اگر انسان میں انسانیت باقی رہے تو ہلاک نہیں کرتا اس کو معاف کرتا چلا جاتا ہے ،عفو کا کرتا چلا جاتا ہے، حیا اس سے کرتا چلا جاتا ہے لیکن جتنا وہ ان صفات سے دور ہٹتا چلا جاتا ہے اور کلینتہ بے حیا بن جاتا ہے اتنا ہی زیادہ وہ انسانیت سے گر کر جانوروں کی شکلوں میں تبدیل ہونے لگ جاتا ہے یعنی اس کے لئے پھر انسان کا لفظ بولنا ہی انسان کی ذلت ہے تو سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُوْمِ میں خدا تعالیٰ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ ہم پکڑ میں دھیمے ہیں، ہم سزا تو بہت سخت دیں گے لیکن اس وقت جب کہ عملاً انسان انسان کہلانے کا مستحق ہی باقی نہیں رہے گا۔جانوروں کی طرح ان کی تھوتھنیاں ہو جائیں گی اور پھر ہم ان تھوتھنیوں پر ماریں گے اور ان کو دائیں گے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا نے اتنا عظیم الشان انسان بنایا تھا اور پھر خود ہی ہلاک کر دیا۔بائیبل تو کہتی ہے یہ بات لیکن قرآن یہ نہیں کہتا۔فرماتا ہے جب تم انسانیت کے مقام سے گر چکے ہو گے تب تم اس بات کے لائق نہیں ٹھہرو گے کہ تمہیں زندہ رکھا جائے اس وقت تمہیں ہلاک کیا جائے گا۔اب میں واپس اس مضمون کی طرف آتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا