خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 780
خطبات طاہر جلد۳ 780 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء کر کے ملک جاگ رہے ہیں۔امریکہ سے بھی خوشخبریاں آنے لگی ہیں مزید بیعتوں کی نجی آئی لینڈ ایک دور دراز کا علاقہ ہے جو یہاں سے اتنی دور ملک ہے کہ اس سے زیادہ دور ملک کوئی بھی نہیں ہوگا یہاں سے اور وہاں سے بھی خوشخبریاں آنے لگی ہیں ایک دو تین چار، رجحان بیعتوں کا بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ہر طرف بیعتوں کا رجحان بڑھنا شروع ہو گیا ہے تو فرانس تک کیوں یہ خبر نہیں پہنچ رہی مجھے یہ تعجب ہے۔فرانس کے احمدیوں میں سے بعض مجھے خط لکھتے ہیں معلوم ہوتا ہے تو بڑی خوشی ہوتی ہے کہ اللہ کے فضل سے وہ حرکت میں آگئے ہیں لیکن بحیثیت جماعت زندہ فعال جماعت کے طور پر منصو بہ بنا کر اہل فرانس کو اسلام میں داخل کرنے کے وہ آثارا بھی ظاہر نہیں ہوئے جن کی میں آپ سے توقع رکھتا ہوں اس لئے میں اسی پر اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔ان سارے حالات کی روشنی میں آپ سوچیں کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے یہاں ایک قسم کا امن عطا فرمایا ہوا ہے۔ہزار ہا مصیبتوں میں آپ کے بھائی اور بہنیں اور بچے مبتلا ہیں جن سے آپ دور بیٹھے ہوئے ہیں اس وقت اس لئے اول تو ان حالات میں اپنے دل کو تسکین نہ پانے دیں، ان کے غم میں بے قرارر ہیں، ان کے لئے دعائیں کریں، ان کے دکھوں سے حصہ پائیں۔پہلا رد عمل تو آپ کا یہ ہونا چاہئے بھولو نہیں ان کو جو آپ کے بھائی وہاں بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ زندہ تو میں کبھی نہیں بھولا کرتیں۔آنحضرت ہ فرماتے ہیں کہ مومن تو ایک جسم کی طرح ہیں۔انگلی کے کنارے پر بھی ایک دکھ پہنچے تو سارے وجود کو دکھ پہنچتا ہے۔( صحیح مسلم کتاب البر والصلة والادب باب تراحم المومنين وتعاشهم وتعصدهم ) ہمارے تو مرکزی حیثیت کے لوگوں کو شدید دکھ پہنچ رہا ہے ربوہ اہل پاکستان کا ہی مرکز نہیں ہے تمام دنیا کا مرکز ہے جماعت احمدیہ کے لئے ، وہاں دکھ پہنچ رہا ہے۔پاکستان کو ایک مرکزی حیثیت ہے وہاں احمدیوں کو شدید دکھ پہنچ رہا ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ باقی احمدی چین سے بیٹھے رہیں؟ اس لئے اپنی زندگی کے اطوار بدلیں، اپنے اندر جفا کشی پیدا کریں، اپنے دل کو اپنے بھائیوں کے لئے نرم کریں، ان کے لئے دعائیں کریں اور جن کاموں سے ان کو محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ان میں اتنا زور لگائیں کہ حیران رہ جائے دشمن کہ ہم ایک جگہ دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ سینکڑوں جگہ ابھرنے لگتے ہیں۔یہ ہے حقیقی جواب جو آپ کو تدبیر کے ذریعہ دینا چاہئے۔خدا کی تقدیر تو ضرور کام کرتی ہے کرے گی ہمیں یقین ہے اس کی باتیں تو میں بہت کر چکا ہوں آپ کے سامنے لیکن تدبیر کے ذریعہ خدا تعالیٰ کو یہ بتائیں کہ ہم