خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 776
خطبات طاہر جلد ۳ 776 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴ء صلى الله سب نے اس وقت جب کہ نقاہت کا یہ عالم تھا کہ چلنا پھرنا بھی مسلمانوں کے لئے دوبھر ہوا ہوا تھا ایسے وقت میں ایک صحابی نے آنحضرت علوس کے رحم کو اپیل کرنے کے لئے کہ یا رسول الله اللہ ! ! کچھ کریں ہم کیا کریں یہ حال ہو گیا ہے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو آپ نے دیکھا کہ پتھر بندھا ہوا ہے یہ بتانے کے لئے کہ میرے حال زار کو دیکھیں تو سہی کہ پتھر باندھ باندھ کر میں بھوک مٹارہا ہوں ۔ آنحضرت نے اپنی زبان سے کوئی جواب نہیں دیا لیکن اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا یا راوی بیان کرتا ہے کہ اس صلى الله عروسه صلى الله d پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ (سنن الترمذی کتاب الزھد عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء في معيشة النبي آپ نے بتایا کہ میں تم سے زیادہ بھوکا ہوں جس تکلیف میں تم مبتلا ہو تم سے زیادہ شدت سے میں اس تکلیف کو محسوس کر رہا ہوں ۔ یہ نہ سمجھو کہ میں پتھر دل ہوں، مجھے تم سے زیادہ تم سے بڑھ کر تمہارا درد ہے لیکن خدا کی خاطر جو بھی تقدیر ہے ہم راضی برضا ر ہیں گے۔ ان انتہائی گہری تکلیف کی راتوں میں بھی خدا تعالیٰ نے آپ کو عظیم الشان خوشخبریاں دیں ایسے حیرت انگیز مناظر آپ کو دکھائے کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ وہی دراصل وقت ہوتا ہے یقین کامل کے اظہار کا ۔ ایک پتھر ٹوٹ نہیں رہا تھا۔ ایک خندق کھودتے ہوئے آنحضور علی کو بلایا گیا ۔ آپ سے عرض کی گئی، حالانکہ وہ بڑے قوی لوگ تھے جو پتھر توڑ رہے تھے، یا رسول اللہ ! یہ پتھر راہ میں حائل ہے اور ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے، اتنی طاقت نہیں ہے کہ خندق کو پتھر کو چھوڑ کر لمبا کریں اور دور سے کھود کر لائیں تو آنحضور ﷺ نے پھاوڑایا جو بھی چیز تھی جس سے پتھر توڑ رہے تھے اس کو اپنے ہاتھ میں لیا اور پتھر پر مارا تو جیسا کہ رگڑ سے چنگاری نکلا کرتی ہے اس سے ایک چنگاری نکلی لیکن چنگاری کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے بڑے زور عليه صلى صلى الله صلى الله عروسه سے نعرہ تکبیر بلند کیا اللہ اکبر اللہ اکبر پھر دوبارہ کدال ماری تو پھر ایک چنگاری نکلی پھر آنحضرت علی نے بڑے جوش کے ساتھ ایک نعرہ تکبیر بلند کیا ۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! پتھر تو خیر ٹوٹ گیا کیونکہ صلى الله خدا کی تقدیر نے یہی چاہا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں سے وہ پتھر ٹوٹے ، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا بات تھی؟ آپ نے فرمایا کہ جب پہلی دفعہ جب میں نے پتھر پر ضرب لگائی تو اس چنگاری میں خدا تعالیٰ نے مجھے خیبر کے قلعے دکھائے کہ ان قلعوں کو میں تمہارے لئے سر کر کے دکھاؤں گا اور دوسری دفعہ میں نے پتھر پر ضرب لگائی تو مجھے قیصر و کسری کی حکومتیں دکھائی گئیں اور وہ محل دکھائے گئے جو مسلمانوں کے قبضہ میں خدا تعالیٰ نے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ (السیرۃ الحلبیہ زیر غزوہ ما کا کرلیا