خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 771 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 771

خطبات طاہر جلد ۳ 771 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء کو جھنجھوڑنے کے لئے اور سیکریڑی تعلیم سے ملے بھی۔مجھے علم ہوا تو میں ان پر ناراض ہوا۔میں نے ان بلایا میں نے کہا تم کر کیا رہے ہو؟ تمہیں پتہ ہی نہیں کہ کیا واقعات گزررہے ہیں کیوں گزررہے ہیں۔ان افسروں کے بیچاروں کے قبضہ میں ہے ہی کچھ نہیں یہ تو His Masters Voice میں گوش بر آواز آقا ہیں اور جوان کا آقا ہے وہ خود غلام ہے غیر طاقتوں کا ، وہ ان کی آواز پر کان لگائے بیٹھا ہے اور جس طرف ان کے لب ہلتے ہے اسی طرف اس کے لب ہلنے لگ جاتے ہیں تو ایک بہت بڑی عالمی سازش کا جماعت احمد یہ شکار ہے۔تم لوگ کیا حرکتیں کر رہے ہو، نہیں کرنے دیتے نہ کرنے دیں کوئی پرواہ نہ کر و دیکھو آگے کیا کرتے ہیں اور کس طرح آگے بڑھتے ہیں؟ پھر اجتماعات پر انہوں نے پابندی لگا دی وہی نظر آ رہا تھا کہ یہاں سے شروع کریں گے۔سیڑھیاں جس طرح انسان چڑھتا ہے ایک دو تین چار اس طرح اوپر تک پہنچے لگیں گے۔پھر جلسہ سالانہ ان کے لئے خطرہ بن گیا اور اس قدر شور مچایا گیا سارے ملک میں کہ گویا اگر یہ بات حکومت نے نہ مانی تو حکومت تباہ ہو جائے گی۔جلسہ سالانہ اتنا بڑا واقعہ جماعت احمدیہ کا کیا حق ہے کہ جلسہ سالانہ کرے؟ چنانچہ جلسہ سالانہ ختم کر دیا گیا اور آج جلسہ سالانہ پر یہ ہمارا اختتامی خطاب ہونا تھا۔آج اٹھائیس ہے اور ۲۸ تاریخ کو اختتامی تقریب ہوا کرتی تھی جس میں قرآن کے معارف بیان ہوتے تھے ،اسلام کی خوبیاں بیان ہوتی تھیں، غیر مذاہب پر اسلام کی فوقیت بیان ہوتی تھی۔یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایسی باتیں ہوں، جلسہ سالانہ پر اس کے مقابل پر کیا برداشت کر سکتے ہیں ربوہ کی مساجد جن میں لاؤڈ سپیکر کھلے ہیں یعنی مولویوں کی مساجد اس میں جمعہ کے دن ایسی فحش کلامی ہوتی ہے کہ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ اس سے ربوہ کے رہنے والوں کا حال کیا ہوتا ہے؟ شدید گندی زبان استعمال کی جاتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف، جماعت احمدیہ کے سربراہوں کے خلاف ،خلفا کے خلاف بزرگوں کے خلاف اور اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ تعجب ہوتا ہے کہ اسلام کا نام لینے والے، اسلام کی طرف منسوب ہونے والے جھوٹ اتنا بول کیسے سکتے ہیں؟ گھر بیٹھے کہانیاں گھڑتے رہتے ہیں اور پھر فخر سے بتاتے ہیں بعد میں مولوی اپنے ساتھیوں کو کہ دیکھا کس شان کا میں نے جھوٹ گھڑا ہے! یہ میں نے گھڑا تھا، کسی اور نے مجھے نہیں بتایا، یہ میرا دماغ چلا ہے اس طرف اور سارے جانتے ہیں اور ان کے ماننے والے بھی جانتے ہیں اور سارا ماحول جانتا ہے، حکومت جانتی ہے کہ محض گند پر منہ مار رہے