خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 71
خطبات طاہر جلد ۳ 71 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء کہ ہر وہ شخص جو بڑے بڑے دعاوی کرتا ہے یا تمیں کھاتا ہے لیکن ہے بڑا سخت جھوٹا اور ذلیل انسان ! اس کی باتوں کی پیروی نہ کیا کر وهَمَّان ، وہی هُمَزَةٍ کا لفظ استعمال ہوا مادہ وہی ہے یعنی جو معانی میں نے هُمَزَةٍ کے بیان کئے ہیں فرمایا کہ ایسے شخص یا ایسی قومیں هَمَّاز ہوتی ہیں، وہ کسی کی خیر اپنے دل میں نہیں رکھتیں، پروپیگنڈہ میں سچائی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہوتا اس بات سے وہ بے پرواہ ہیں کہ سچی بات ہے یا جھوٹی بات ہے انہوں نے ہر صورت میں تفرقے ڈالنے ہیں، قوموں کو ذلیل کرنا ہے، رسوا کرنا ہے، دھکے دینے ہیں انسان کو اور گرانا ہے۔تَشَاء بِنَمِيمٍ وہ چغلی خور اور ایذارسانی والی باتیں کر کے بڑی کثرت سے چلتے ہیں یعنی یہاں پرو پیگنڈہ کی جو ہوائیں چلائی جاتی ہیں مشاء سے مراد یہ ہے جس طرح بعض چغل خوروں کی عادت ہوتی ہے کہ گھر گھر پھر کے باتیں کرتے ہیں اس طرح قو میں بھی ملک یہ ملک اور وطن به وطن اور قوم بہ قوم ایسے پرو پیگنڈے کریں گی بکثرت کہ مَّشَاء بِنَمِيمٍ ) کہلائیں گی۔یہ صفات جن قوموں میں پیدا ہوں بلکہ جن افراد میں بھی پیدا ہوں ان کے اندر بعض اور برائیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔منَّاعٍ لِلْخَيْرِ نہ بھلائی ان کے اندر رہتی ہے اور نہ وہ بھلائی کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ بھلائیوں سے باز رکھتے ہیں لوگوں کو۔مُعْتَدِ آنیم بہت گنہ گار ہو جاتے ہیں ایسے لوگ۔چنانچہ معاشرتی لحاظ سے جہاں بھی یہ فحشا ہوں ، چغلیاں ہوں ،بدظنیاں ہوں ،ایک دوسرے کے خلاف کھلم کھلا زبانیں چلائی جائیں، ایک دوسرے کے غیب میں بھی برائیاں کی جائیں اور سامنے بھی برائیاں کی جائیں اور فرضی باتیں بنابنا کر بھی لوگوں کے عیب لوگوں پر ظاہر کئے جائیں اور کچھ اگر واقعاتی ہیں تو وہ بھی بے دھڑک ہو کر لوگوں کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ان کی بدنامی کی جائے۔ایسی سوسائٹیوں میں لاز مافشا پھیل جاتا ہے اور دن بدن وہ زیادہ بدکردار ہوتی چلی جاتی ہیں۔ان میں گناہ رکنے کی بجائے پھیل جاتے ہیں جس طرح بعض دفعہ نزلاتی بیماریاں اس قسم کی بیماریاں جو Infectious Diseases Contagious Diseases کہلاتی ہیں وہ بیماریاں بھی ان کا جتنا زیادہ آپس میں واسطہ ہوا اتنا ہی پھیلتی چلی جاتی ہیں۔تو یہ جراثیم لے کر چلنے والے لوگ ہیں ایک جگہ سے ایک بدی کے جراثیم پکڑے خواہ وہ فرضی تھی خواہ وہ حقیقی تھی لیکن ان کو پو ٹنٹائز کر کے ان کے اندر اپنی طرف سے طاقتیں بھر کر پھر یہ لوگوں میں پھیلاتے ہیں اور آہستہ آہستہ