خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 70

خطبات طاہر جلد ۳ 70 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء بھی ساری ٹوٹ گئیں، سارے اجتماعی نظام جو افراد کو ملا کر ایک بڑی طاقت میں تبدیل کرتے ہیں پھر وہ اپنے سے بڑی طاقتوں سے مطالبے کرتے ہیں اور اپنے حقوق منوانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کا کلیتہ فقدان ہے اشترا کی دنیا میں اور فرد فرد پارہ پارہ ہو چکا ہے، ذرے ذرے میں تبدیل ہو گیا ہے انسان اس کی مجموعی طاقت ان ہی ذروں پر حکومت کر رہی ہے لیکن ان ذروں کے حقوق کے لئے کوئی راہ باقی نہیں رہی اگر وہ چاہیں مطالبہ کرنا چاہیں تب بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ہے۔مغربی طاقتیں بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا کھیل اسی طرح کھیل رہی ہیں کہ سارے مشرق وسطی پر آپ نظر ڈالیں اور اپنے ہندوستان اور پاکستان پر نظر ڈالیں اور کشمیر کے مسئلہ کو دیکھیں اور فلسطین کے مسئلے کو دیکھیں ، جنوبی امریکہ کی ریاستوں کا حال دیکھیں ہر جگہ بعینہ یہی وطیرہ اختیار کیا گیا ہے کہ انسان کو انسان سے لڑا کر قوموں کو قوموں سے لڑا کر دائیں بازو اور بائیں بازو کے نظریات کو آپس میں ٹکرا کر پارہ پارہ کر دیا گیا ہے انسان کو اور ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ہے۔توهُمَزَة میں صرف غیبت اور پروپیگنڈہ نہیں ہے بلکہ اس کے بعد پھر کچھ اور بھی ایسے قومی وطیرے بیان کر دیئے گئے ہیں، قو می طریق بتائے گئے ہیں جن کے ذریعہ انسان انسان کو قومی دکھوں میں مبتلا کرتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ غیبت کا جو فلسفہ آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس پر روشنی ڈالی اس میں دکھ دینا بنیادی بات بیان کی گئی تھی اور فرمایا گیا کہ عیب چینی، غیبت ، بدظنی ان سب سے جو منع کیا جاتا ہے اس کی مرکزی روح یہ ہے کہ انسان انسان کو دکھ نہ پہنچائے۔جب ان باتوں میں انسان بے باک ہو جاتا ہے تو پھر دکھ پہنچانے کے جتنے ذرائع ہیں وہ اختیار کرنے لگ جاتا ہے، بے باک ہو جاتا ہے، بے حیا ہو جاتا ہے اور معاشرتی طور پر اس کے نتیجہ میں کچھ اور برائیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں چنانچہ قرآن کریم نے دوسری جگہ ان برائیوں کی تفصیل بیان فرمائی: وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ فَهِيْنِ هَمَّازٍ مَشَاءُ بِنَمِيمٍ 6 مَّنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدِ اثِيْهِ عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيْهِ آن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ (القلم: ۱۱-۱۵)