خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 762
خطبات طاہر جلد ۳ 762 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء آپ کے سامنے بیان کی ہے یہ تو ایک قصہ ہے، ایک فرضی بات ہے، لوگوں نے ایک مثال گھڑ لی ورنہ تو یہ ساری بات ہی جھوٹی ہے۔مائیں بھی ایسی دیکھی ہیں جن کو بچوں پر غصہ آجاتا ہے، مائیں بھی ایسی میں نے دیکھی ہیں جو بدعائیں دیتی ہیں، ایسی مائیں بھی میں جانتا ہوں جو مرتے وقت تک بچوں کو معاف نہ کر سکیں اور آخری کلام جو ان کے منہ سے نکلا وہ بددعا کا تھا۔لیکن محمد مصطفی ملالہ جیسی ماں کبھی دنیا کو نصیب نہیں ہوئی۔ناممکن ہے کہ اس رحمۃ للعالمین کی کوئی مثال دنیا میں پیش کر سکے۔خدا گواہی دے رہا ہے کسی انسان کا بنایا ہوا فرضی قصہ نہیں ہے ، رب العالمین جو عالم الغیب ہے عالم الشہادۃ ہے وہ مخاطب کر کے فرماتا ہے اور ایک جگہ نہیں دو مرتبہ ایسا ہی واقعہ قرآن کریم میں ہمیں نظر آتا ہے۔سورہ کہف میں بھی یہی مضمون عیسائیوں کی ہلاکت کے متعلق جب خدا نے خبر دی تو آنحضرت ﷺ کے دل کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے بیان فرمایا: فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ اِنْ لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكهف:2) کہ اے محمد ! کیا حال ہے تیرے دل کا کہ ان لوگوں کی ہلاکت کی جب میں تجھے خبر دیتا ہوں تو حسرت کے ساتھ دیکھتے ہوئے کہ کاش یہ اس رستہ پر نہ چلتے جن راہوں پر یہ چل پڑے ہیں، ان را ہوں کے آثار دیکھتے ہوئے تیرے دل کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ غم کے مارے اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا۔پس ہم تو محمد مصطفی ﷺ کے غلام ہیں، آپ ہی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، آپ ہی کی سیرت کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے دلوں کو ایسا سخت کر دیا ہو کہ دشمن کی ہلاکت کے نتیجہ میں ہمیں صرف خوشی پہنچے؟ دشمن کی ہلاکت کے نتیجہ میں ایمان تو ہمارا ضرور بڑھے گا، دشمن کی ہلاکت کے نتیجہ میں ایک قسم کی فرحت ضرور محسوس ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کے غلبہ کی خوشی کے نتیجہ میں پہنچتی ہے کسی کے دکھ کے نتیجہ میں نہیں پہنچتی۔محض اس لئے ہوتی ہے کہ خدا کی تقدیر پوری ہوئی ، خدا کا غلبہ ہوا ، خدا کا دین غالب آیا۔وہ لوگ جو جھٹلایا کرتے تھے جو شیخیاں بگھارا کرتے تھے، کہ کون ہے ان کا؟ ان کو خدا نے دکھا دیا کہ میں ان کا ہوں۔دنیا پر ہمارے اللہ سے تعلق ظاہر ہو گئے۔ان باتوں کی خوشی انبیاء بھی محسوس کرتے ہیں، ان