خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 751 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 751

خطبات طاہر جلد ۳ 751 خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۸۴ء ہے کہ تمہارے سینیوں سے لگنے کی خاطر ہم ان مقدس وجودوں کی خاک پاک چھوڑ دیں، وہم ہے، یہ گمان ہے تمہارا تم جانتے نہیں کہ خدا کی تقدیر نے پہلے تم جیسوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔تمہارا ماضی بھی اندھا ہے اور تمہارا مستقبل بھی اندھا ہے۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَوْلَا أَنْ تَبَّتْنَكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيْلًان صلى الله اے محمد (ﷺ) ہم جانتے ہیں کہ تجھ پر دباؤ انتہائی شدید ہے، حد سے زیادہ مظالم توڑے جارہے ہیں اور تن تنہا انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ ثابت قدم رہ سکے ان باتوں پر اگر ہم تجھے ثبات قدم عطا نہ فرماتے اے محمد مصطفی ﷺ اور تیرے غلاموں کے قدموں کو قائم نہ فرماتے تو ہوسکتا تھا کہ تم کچھ نہ کچھ اپنے مسلک سے سرک جاتے۔یہ خدا کی تقدیر اس کے فرشتے ہیں جو دلوں کو تھامے ہوئے ہیں جو قدموں کو طاقت بخش رہے ہیں۔إِذًا لَّا ذَقْتُكَ ضِعْفَ الْحَيَوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ اگر ایسا ہوتا کہ خدا تعالیٰ تمہیں ثبات قدم نہ عطا فرماتا اور تم کچھ سرک جاتے اپنے مسلک سے تو پھر ان کے سینے سے تم لگتے یا نہ لگتے خدا کا غضب تم پر ضرور بھڑک اٹھتا اور اس دنیا میں بھی تم ذلیل کر دیے جاتے اور آخرت میں بھی ذلیل کر دیئے جاتے۔دنیا میں بھی دوہرا عذاب تمہارے مقدر میں لکھا جاتا اور آخرت میں بھی دو ہر اعذاب تمہارے مقدر میں لکھا جاتا۔یہ ہے ہمارے لئے متبادل را کچھ ادنیٰ سے ادنی ایمان والا احمدی بھی ان دو متبادل رستوں کو دیکھنے کے بعد جو کلام الہی نے ہم پر روشن فرمائے ہیں ایک لمحہ کے لئے بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ دنیاوی سینوں سے لگنے کی خاطر خدا کے سینہ سے الگ ہو جائے اور خدا کے غضب کا مورد بن جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے حالات میں جب کہ دشمن ارتداد پر مجبور کرتا ہے لالچ دے کر بھی اور ظلم و ستم ڈھا کے بھی تم خدا سے ثبات قدم مانگو تم دعائیں کرو کہ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ) (البقره: ۳۵۱) کیوں کہ ثبات قدم محض تمہارے دعاوی سے نصیب نہیں ہوسکتا اتنے شدید دباؤ بڑھ جایا کرتے ہیں بعض دفعہ کہ ایک مومن کا پاؤں بھی کچھ نہ کچھ سرکنے لگتا ہے۔فرمایا اس لئے مجھ سے