خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد ۳ 69 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء جائیں گے اور وہ زیادہ بے حیثیت ہوتے چلے جائیں گے۔چنانچہ اس وقت مغربی قو میں بعینہ غریب قوموں سے یہ سلوک کر رہی ہیں ان کو دھکا دے کر خاک میں ملا رہی ہیں اور دن بدن وہ ٹوٹتی چلی جاتی ہیں بڑی سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے دنیا میں اس بات سے کہ دن بدن امیر قوموں کا غریب قوموں سے فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔جتنا زیادہ بظاہر یہ روپیہ دے کر ہمیں انڈسٹری ہماری قائم کرتے ہیں، ہماری اقتصادیات کو بظاہر قوت دیتے ہیں اس کے نتیجہ میں ہمارے اندر جو Buying Power یعنی قوت خرید پیدا ہوتی ہے وہ ساری ان کی منڈیوں میں استعمال ہوتی ہے اور دن بدن ہم قرضوں اور مزید قرضوں میں مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں اور حقیقت میں خاک آلودہ اور مسکینوں والی شکل ان قوموں کی بنتی چلی جارہی ہے۔اگر ہم بائیں بازو کے بلاک یعنی اشترا کی دنیا پر نظر کریں تو ان کا بھی یہی حال ہے۔ان کے زیر اثر قومی لحاظ سے ایسی قومیں ہیں جن کو وہ اٹھنے نہیں دیتے۔جب بھی وہ کوشش کرتی ہیں تو میں کہ ہم سراٹھا ئیں تو ان پر کئی طرح کی مار پڑتی ہے اور پھر وہ دھکا دے کر ان کو زمین پر پھینک دیتے ہیں۔ان کو سمجھ نہیں آتی کہ ہماری اقتصادی حالت سنبھل کیوں نہیں رہی ؟ چنانچہ پولینڈ کی ایک مثال آجکل بڑی واضح ہے۔دن بدن اور زیادہ غریب ہوتا چلا جارہا ہے ، دن بدن اور زیادہ اس کی قوت خرید میں کمی آتی چلی جاتی ہے اور جو بھی وہ کماتے ہیں ، جو بھی بناتے ہیں، جتنی محنت وہ خرچ کرتے ہیں اس کا اگر کوئی فائدہ ہے تو وہ بڑی بائیں بازو کی طاقتوں کو ہے اور اسی طرح دیگر چھوٹے چھوٹے بہت سے یورپین ممالک ہیں جو روسی اثر کے نیچے ہیں اور ان کے ساتھ بھی قومی لحاظ سے ذَا مَتْرَبَةِ والا سلوک ہو رہا ہے۔پھر انفرادی طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دینا بائیں بازو کے لحاظ سے یہ معنی رکھتا ہے کہ فرد کی طاقت کو اجتماعی شکل میں آنے سے اس طرح روکنا کہ من حیث المجموع جو اجتماعی طاقت غالب آچکی ہے اس کے مقابل پر وہ طاقت حاصل کر سکیں۔چنانچہ ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے کہ اشترا کی دنیا میں ایک طرف سارے افراد کی مجموعی قوت غالب آچکی ہے دوسری طرف فرد بحیثیت فرد بالکل بے حیثیت اور بے طاقت ہو چکا ہے اور اس کے لئے امکان ہی باقی نہیں رہا کہ وہ گروہ بندی کر کے مل کر کچھ طاقتیں بنا کر وہ اپنے حقوق کی حفاظت کرے یا ان کے مطالبے کر سکے۔چنانچہ Unions