خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 743 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 743

خطبات طاہر جلد ۳ اٹھایا جائے گا۔743 خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۸۴ء بظاہر تو پہلے مضمون کے ساتھ کوئی قطعی تعلق اس دوسرے مضمون کا نظر نہیں آتا لیکن اہل شمال کا ذکر پہلی آیت میں نہیں ہے وہی ذکر اندھے کے طور پر دوسری آیت میں کیا گیا ہے۔دائیں ہاتھ والوں کا ذکر تو موجود ہے بائیں ہاتھ والوں کا ذکر موجود نہیں تھا اور اندھے کے طور پر ان کا ذکر چلا ہے اور يتعلق فَأُولَبِكَ يَقْرَءُونَ كِتُبَهُمْ سے پیدا ہوا ہے جس کی آنکھوں میں بصیرت ہو وہی تقدیر کا لکھا پڑھ سکتے ہیں اور جن کی آنکھوں میں بصیرت نہ ہو وہ کچھ بھی پڑھ نہیں سکتے تو فرمایا جن کو دائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گئی ان کی قسمت کا لکھا وہ پڑھیں گے کیونکہ وہ اہل بصیرت تھے۔پہلی دنیا میں بھی اہل بصیرت تھے اور دوسری دنیا میں بھی اہل بصیرت کے طور پر اٹھائے گئے تھے۔جن کو پہلی دنیا میں تقدیر کے لکھے پڑھنے آتے تھے وہ دوسری دنیا میں بھی تقدیر کا لکھا پڑھ سکیں گے۔جو پہلی دنیا میں اندھے رہے خدا کی تقدیر کے نشان افق میں رونما ہوتے دیکھے بھی اور ان کو سمجھ نہ آئی ، ان کی آنکھیں خدا تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی سنت سے غافل رہیں ، وہ اس دنیا میں بھی اندھوں کے طور پر اٹھائے جائیں گے بلکہ اس سے بدتر ان کا حال ہوگا۔یہ امر واقعہ ہے کہ مذہب کی مخالف قوموں کی تقدیر اس سے بہتر بیان نہیں ہوسکتی کہ وہ اندھے ہو جاتے ہیں کئی قسم کے اندھیرے ہیں جن میں وہ مبتلا کئے جاتے ہیں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ نور نبوت کو پہچان نہیں سکتے۔وہ سمجھ نہیں سکتے کہ خدا کی طرف سے آنے والے کس رنگ میں رنگین ہو کر آتے ہیں اور خدا سے ہٹے ہوئے لوگوں کے چہرے کیسے ہوتے ہیں۔وہ سچ اور جھوٹ میں تمیز نہیں کر سکتے ، مذہبی راہنمامذہب کے نام پر ان کو گند کی تعلیم دیتے ہیں، گندی زبانیں استعمال کرتے ہیں ، خدا کے بندوں کو جلانے ، لوٹنے اور مارنے کی تلقین کرتے ہیں اور انہیں کچھ سمجھ نہیں آتی کہ یہ پیغامبر خدا کے پیغامبر ہو ہی نہیں سکتے ، نور سے اندھیرا پھوٹ ہی نہیں سکتا۔یہ بنیادی بات بھی وہ سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور چونکہ وہ بصیرت سے عاری ہو جاتے ہیں اس لئے نہ صرف یہ کہ روحانی بصیرت سے عاری ہوتے ہیں بلکہ دنیاوی بصیرت سے بھی عاری ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی زندگی کا پروگرام بنا کر ، روشنی میں دیکھ کر ایک منصوبہ کے مطابق آگے قدم بڑھانے کے اہل نہیں رہتے۔ان کو یہ توفیق نہیں ملتی کہ وہ اس طرح چل سکیں جس طرح ایک روشنی کو دیکھنے والا صاحب بصیرت انسان