خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 742
خطبات طاہر جلد ۳ پھر فرمایا : 742 خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۸۴ء قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں سے پہلی آیت میں یہ عظیم الشان اعلان فرمایا گیا ہے کہ یوم حشر کو جب کہ خدا تعالیٰ انسانوں کی بعثت ثانیہ فرمائے گا تو ہر انسان کو اس کے امام کے نام پر اٹھایا جائے گا، اس کے امام کے نام کے ساتھ اس کو بلایا جائے گا یعنی وہ جس کو وہ سچا امام سمجھتا ہے، جس کے پیچھے اس نے اپنی زندگی کی حرکت و سکون کو لگا دیا وہ جس کے پیچھے اس نے اپنا لائحہ عمل طے کیا اور جسے مقصود بنا کر اس کے پیچھے پیچھے قدم رکھتا رہا، اسی کے ساتھ قیامت کے دن اس کا حشر ہوگا۔اگر تو اس نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اپنا امام بنالیا ہے تو آپ ہی کے ساتھ اس کا حشر ہوگا اور کوئی دنیا کی طاقت اسے اپنے اس مقدس امام سے الگ نہیں کر سکے گی اور اگر اس نے دشمنان محمد مصطفی ﷺ کا وطیرہ اختیار کیا ہے اور ان کو عملی زندگی میں اپنا امام بنا رکھا ہے تو کوئی دنیا کی طاقت اس امامت سے ہٹا کر اس کو محد مصطفی ﷺ کی امامت میں حشر کی توفیق نہیں بخش سکتی۔ایک ایسا اعلان ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ہر شخص اپنے امام کے پیچھے یعنی اس حقیقی امام کے پیچھے جس کے ساتھ اس نے اپنی زندگی کی ساری تمنائیں، ساری امنگیں، ساری آرزوئیں وابستہ کر رکھی ہیں اور جس کے تمام اعمال بھی ان امنگوں ان آرزوؤں کی تصدیق کرتے میں فَمَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَبِكَ يَقْرَءُونَ كِتْبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًان پر جن لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑایا جائے گاوہ اس کتاب کو پڑھیں گے اور ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کئے جائیں گے۔یمین سے مراد وہ ائمہ ہیں جو حقیقی مذہبی ائمہ ہیں کیونکہ شمال اور یمین کی تقسیم قرآنی محاورے کے مطابق مذہبی اور غیر مذہبی دنیاؤں کی تقسیم ہے۔پس مراد یہ ہے اگر اس نے مذہبی امام کو اپنا متبوع بنالیا اور کسی ایسے امام کو جس کو خدا نے مقرر فرمایا ہے تو پھر اس کے مقدر چمک اٹھے اور اس کے دائیں ہاتھ میں یعنی روحانی لحاظ سے خدا کی خوشنودی کے رنگ میں اسے وہ کتاب دی جائے گی جو اس کے مقدر کی کتاب ہے جس میں اس کی قسمت کا فیصلہ لکھا ہوا ہوگا کیونکہ اس نے اس کو امام بنایا جو خدا کے دائیں ہاتھ پر ہے۔وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا اور جوکوئی اس دنیا میں اندھا ہو وہ قیامت کے دن بھی اندھا ہی اٹھے گا وَ أَضَلُّ سَبِيلان بلکہ اس سے بھی بدتر حال میں