خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد ۳ 736 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء اطلاعیں آتی ہیں کہ حکومت کے کارندے جن کو حکومت کے افسران نے مجبور کیا ہے حکماً جاتے ہیں اور بعض دفعہ روتے ہیں وہاں احمدیوں کے سامنے کہ ہم مجبور ہیں، ہماری نوکری کا سوال ہے۔لیکن مشرک ہوچکے ہیں ، خدا کی پرواہ نہیں کرتے بندے کی نوکری کا سوال ہے اس لئے وہ اپنے ہاتھوں سے کلمہ مٹانے لگ جاتے ہیں۔تو کلمہ مٹانے والے تو تم ہو، کلمہ کو سینے سے لگانے والے تو ہم ہیں اور ہمیں کون سا کلمہ پڑھوانا چاہتے ہو؟ تمہارا کلمہ تو ہم نہیں پڑھیں گے، تمہارے ملاؤں کا کلمہ تو ہم نہیں پڑھیں گے، ہماری زبانیں گدی سے کھینچوا دو اگر کھنچوانے کی طاقت ہے، ہماری گردنیں کاٹ دو اگر کاٹنے کی طاقت ہے، ہمارے اموال تلف کر دو اگر تلف کرنے کی طاقت ہے، مگر خدا کی قسم محمد مصطفی ﷺ کا کلمہ پڑھیں گے اور تمہارا کلمہ نہیں پڑھیں گے۔ایک بھی احمدی ماں یا بیٹا نہیں ہے، ایک جوان یا بوڑھا نہیں ہے جو محد مصطفی ﷺ کے کلمہ کو چھوڑ کر کسی صدر مملکت کسی سر براہ حکومت کا کلمہ پڑھ لے۔اس لئے ان سے کلمے پڑھواؤ ان کو چھاتیوں سے لگاؤ جن کو تمہاری چھاتیوں سے لگنے کی پروا ہے۔جو مرتے ہیں کہ کسی طرح تمہاری چوکھٹ تک پہنچیں اور سجدے کریں تمہاری حکومت کو۔ہمیں تو ان چھاتیوں کی کوئی پرواہ نہیں جن چھاتیوں میں جھوٹ ہے، جن چھاتیوں میں بغض ہے، جن چھاتیوں میں کوئی انسانی قدر باقی نہیں رہی۔ہم کیسے حمد مصطفی ﷺ کے غلام کی چھاتی کو چھوڑ کر تمہاری چھاتی سے لگنا گوارہ کریں؟ کیسی دھمکی ہے کیا لالچ ہے! اس قوم کو تو چھاتی سے لگاتے نہیں جو تمہارے نزدیک وہی کلمہ پڑھ رہی ہے جو تم پڑھ رہے ہو، اس قوم کی عزت سے تو کھیل رہے ہو جس قوم سے تمہارا کوئی مذہبی اختلاف نہیں ہے۔وہ کونسی چھاتیاں تھیں جن کو تم نے چھلنی کیا سندھ میں، جن کو بلوچستان میں چھلنی کیا ، جن کو پنجاب اور صوبہ سرحد میں چھلنی کیا ؟ کیوں کیا ؟ کیا وہ ، وہ کلمہ نہیں پڑھتی تھیں جو تم سمجھتے ہو کہ تم پڑھتے ہو؟ پھر کس جرم اور کس کی سزا میں تم نے ان پر یہ مظالم روا ر کھے اور بعض گلیوں کو خون سے بھر دیا ؟ بڑوں کے خون لئے ، بچوں کے خون لئے ، جوانوں کے خون لئے ، عورتوں کو شدید اذیت ناک مصیبتوں قیدوں میں مبتلا رکھا اور ان کی بے عزتیاں کروائی گئیں۔اس اسلامی حکومت میں تم یہ کہہ رہے ہو کہ ہماری چھاتی سے لگو کلمہ پڑھ کر کلمہ پڑھ کر تو ہم چھاتی سے لگنے کے اہل نہیں رہتے ، ہم تو جیلوں کے قابل ہو جاتے ہیں۔لیکن جن کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ کوئی مذہبی اختلاف نہیں