خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 732
خطبات طاہر جلد۳ 732 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء وہ اخلاق اور تہذیب اور عظمت اور شرف انسانی کی وہ عظیم داستانیں ہیں جو کہانیاں نہیں بلکہ عملی دنیا میں آسمان کے سورج نے ایک ایسے دور میں دیکھیں جب کہ حقیقت میں سورج آسمان پر نہیں بلکہ زمین پر اتر آیا تھا۔جب کہ آسمان کا سورج حضرت محمد مصطفی علیہ کے سورج کے سامنے اندھیرا دکھائی دیا کرتا تھا۔ان سے تو تمہیں کوئی نسبت نہیں لیکن اپنا وہ ضابطہ حیات جسے تم فخر سے پیش کر رہے ہو اس پر خود کیوں عمل کر کے نہیں دکھاتے ؟ اگر یہ بات درست ہے کہ ایک صدر پاکستان اہل پاکستان کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے باپ کی بے عزتی برداشت نہ کریں اور اپنے محبوب آقا کی بے عزتی کرنے والے کو یا جس پر الزام بھی لگ جائے کہ وہ بے عزتی کرتا ہے اس کا قتل وغارت شروع کر دیں تو پھر سب سے پہلے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جو لوگ آپ کو امیر المومنین کہتے ہیں ان کو کیوں نہیں اکساتے اور پھر آپ کی اپنی اولاد بھی تو ہے؟ کیا ان کو باپ کی غیرت نہیں ہے؟ کیا دوسرے رہ گئے ہیں باپوں کی غیر تیں دکھانے والے؟ وہ کیوں نہیں اٹھتے اور ان بریلوی علما کو قتل کیوں نہیں کرتے جنہوں نے آپ کو گالیاں دی ہیں اور سندھ پر کیوں دھاوا نہیں بولتے جو دن رات آپ کو گالیاں دے رہا ہے؟ وہ مائیں آپ کو گالیاں دے رہی ہیں جن کی گودوں کے بچے چھینے گئے صرف اس لئے کہ انہوں نے سیاست میں آزادی ضمیر کا تقاضا کیا تھا۔وہ باپ گالیاں دے رہے جن کے معصوم ان کے ہاتھوں سے نکل گئے ، وہ بیوائیں گالیاں دے رہی ہیں جن کے خاوند چھینے گئے وہ بچے گالیاں دے رہے ہیں جو خود یتیم رہ گئے اور بے دردی سے ان کے سینوں پر گولیاں چلائی گئیں صرف اس لئے کہ وہ آزادی ضمیر کا تقاضا کر رہے تھے۔وہ یہ تقاضا کر رہے تھے کہ ہمیں اپنے وطن میں آزاد رہنے دیا جائے۔سارا بلوچستان گالیاں دے رہا ہے۔پاکستان کی بھاری اکثریت جو اہل سنت ہے وہ مذہبی نقطہ نگاہ سے گالیاں دے رہی ہے اور سارا پاکستان بحیثیت مجموعی دن رات شدید بغض و عناد میں مبتلا ہے اور بس نہیں چل رہا کسی کا کہ کس طرح اس ظالمانہ حکومت سے چھٹکارا حاصل کرے۔تو آپ کی اولاد تو بہر حال جسمانی اولاد ہے اگر روحانی نہیں تو جسمانی اولا د تو موجود ہے۔آپ کے بیان کئے ہوئے اصول کے مطابق ان کو تلواریں ہاتھ میں لے کر نکل جانا چاہئے پھر جب تک بس چلے کبھی سندھ میں جا کر قتل و غارت شروع کر دیں، کبھی بریلویوں پر ہلہ بول دیں اور ان کا