خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 723
خطبات طاہر جلد ۳ 723 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء جماعت پر لگائے گئے مبینہ الزام کی تروید ( خطبه جمعه فرموده ۱۴ دسمبر ۱۹۸۴ء بمقام مسجد مبارک ہالینڈ ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: قوموں کے سربراہ جب ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور حق و باطل کی تمیز اٹھا دیتے ہیں تو ایسی صورت میں قوموں پر زلازل اور مصائب آتے ہیں اور ہر طرف سے ان کو گھیر لیتے ہیں۔قرآن کریم نے ان قوموں کا جو نقشہ کھینچا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین بھی ان کو پناہ نہیں دیتی اور زلزلوں کے ذریعہ تہ و بالا کر دی جاتی ہے اور آسمان سے بھی مصائب نازل ہوتے ہیں۔بجائے نور اور روشنی کے اور ایسی قومیں جن کے سر براہ حق و باطل کی تمیز چھوڑ دیں اور ضابطہ اخلاق سے عاری ہو چکے ہوں اگر وہ قو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق نہ پاسکیں کہ وہ ایسے سر براہوں سے نجات حاصل کر لیں تو پھر وہ قو میں بھی بدنصیبی سے اپنے سربراہوں کے مقدر سے حصہ پاتی ہیں۔کچھ اس قسم کے خطرناک اور نہایت ہی تشویشناک حالات آج کل پاکستان میں پیدا ہور ہے ہیں اور موجودہ صدر دن بدن یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے بالکل توازن کھوتے چلے جارہے ہیں اور ساری قوم شدید بے چینی میں مبتلا ہے اور کسی کی کچھ پیش نہیں جارہی کہ وہ کیا کرے اور کس طرح اس تاریکی میں سے روشنی کی راہ ڈھونڈ نکالے؟ جہاں تک سیاسی حالات کا تعلق ہے ان پر تبصرے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ میں ایک مذہبی راہ نما ہوں اور سیاست دان جہاں تک ان کی زبان یارا کرتی ہے ، جہاں تک ان کے کلام پر پہروں کے باوجود وہ اظہار بیان کر سکتے ہیں یہ ان کا کام ہے لیکن بحیثیت ایک مذہبی راہ نما کے مذہب