خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 716
716 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء خطبات طاہر جلد ۳ ہے اسی ایک نیکی کے عوض میں کہ کسی زمانہ میں ان لوگوں نے کلمہ توحید کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی تھی آج ان کو اس قدر بے شمار دولتوں سے نوازا ہو۔پس کیسے ممکن ہے، کیسے ہم یقین کریں کہ سعودی عرب کا یہ خاندان جو توحید کے نام پر قائم ہوا اور توحید کے نام پر اس نے جو کچھ پایا، پایا تو حید ہی کی برکت اور توحید ہی کی خیرات آج تک کھاتا چلا جارہا ہے، آج ایسا سر پھرا ہو جائے گا کہ کلمہ توحید مٹانے کی سازشیں خانہ کعبہ سے اٹھیں گی۔یہ ناممکن ہے ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹے لوگ ہیں ہمیں تجربہ ہے کہ پاکستان کا مولوی ایک اور قسم کی مخلوق ہے اگر ہر مولوی نہیں تو دیو بندی مولوی کے کردار پہچانتے ہیں۔اتنا جھوٹ بولتے ہیں جیسے شیر مادر بچہ پیتا ہے اس طرح جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں۔کسی نے منیر انکوائری رپورٹ پڑھی ہو تو وہ ان کے کردار کو شاید پہچان سکے۔آپ پڑھ کر دیکھیں کس طرح جسٹس منیر اور جسٹس کیانی جو احمدی نہیں تھے اور بڑے عظیم الشان جج تھے ان کی عدالت کے قصے آج تک مشہور ہیں ساری دنیا میں ان کی قوت انصاف اور عدلیہ معاملات میں علم کی شہرت ہے، وہ بڑی بیبا کی اور جرات سے لکھتے ہیں کہ یہ تو بکاؤ لوگ تھے جو ہمیشہ پاکستان کی دشمن طاقتوں کے ہاتھ میں کھیلتے رہے اور جب بھی پاکستان دشمن طاقتوں سے انہوں نے پیسے حاصل کئے پاکستان کے اور دوسرے تمام مسلمانوں کے مفادات کے خلاف پک جاتے رہے۔وہی لوگ ہیں یہ جو مسجد شہید گنج کے غازی ہیں لیکن عجیب بد قسمتی ہے قوم کی کہ اتنی کچی یادداشت اتنی کمزور یادداشت کہ ہر دفعہ انہیں بھولتی چلی جارہی ہے۔لیکن احمدی کی یادداشت تو اتنی کمزور نہیں ہے اس لئے میں کسی قیمت پر بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ سعودی عرب کلمہ تو حید کو مٹانے کی سازش میں ان کی پشت پناہی کر رہا ہو۔جھوٹ بول رہے ہیں، ان کے ساتھ بھی جھوٹ بولتے ہوں گے ان کو جا کر کچھ اور کہانیاں بتاتے ہوں گے اس لئے وہ اپنی سادگی میں اور کم علمی میں ممکن ہے ان کو روپیہ دے رہے ہوں اس سے میں انکار نہیں کرتا کیونکہ وہ ساری دنیا میں جہاں بھی وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی خدمت ہورہی ہے وہ اپنا روپیہ تقسیم کر رہے ہیں۔جاپان تک سعودی عرب کا روپیہ پہنچا ہوا ہے ، کوریا میں سعودی عرب کا روپیہ پہنچا ہوا ہے، ملائشیا میں پہنچا ہوا ہے ، انڈونیشیا میں پہنچا ہوا ہے، بنگلہ دیش میں پہنچ رہا ہے، دنیا کے کونے کونے میں ، افریقہ کے ممالک میں پھیل رہا ہے اور جہاں بھی کوئی مان تنظیم یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ہم نے اسلام کی خدمت میں کوئی کام کرنا ہے اور سعودی عرب کی مسلمان