خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 698 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 698

خطبات طاہر جلد ۳ پھر فرمایا: 698 خطبه جمعه ۳۰ نومبر ۱۹۸۴ء گزشتہ خطبہ میں میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کی تھی اس میں دوگروہوں کا ذکر تھا ایک وہ جو اپنی عزتیں اللہ ہی سے حاصل کرتے ہیں ان کی تمام دعاؤں کا رخ ان کی التجاؤں کا رخ آسمان کی طرف رہتا ہے اور عمل صالح ان کے پاکیزہ کلمات کو مزید رفعتیں بخشتا رہتا ہے۔اسی آیت کے دوسرے حصے میں ان لوگوں کا بھی ذکر تھا اور ہے جو وَ الَّذِيْنَ يَمْكُرُونَ السَّيَّاتِ کہ جو گندی اور بری اور نا پاک تدبیریں کرتے ہیں اور ان کے متعلق فرمایا لهُمْ عَذَابٌ ان کے لئے بہت ہی سخت عذاب مقدر ہے۔یہ مَكْرَ الشَّيْتُ سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلہ میں جب ہم اسی سورۃ فاطر کے آخر پر پہنچتے ہیں تو مَكْرَ الشيئ کے مضمون کو قرآن کریم خود ہی کھول دیتا ہے۔فرماتا ہے وہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے خدا کی بڑی بھاری قسمیں کھائیں اور یہ کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا خدا کی طرف سے آیا ہو یا آجائے تو یقینا وہ پہلی قوموں سے زیادہ ہدایت پانے والے ہو جائیں گے لیکن افسوس ان کے حال پر کہ جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو نفرتوں کے سوا انہوں نے کسی چیز میں ترقی نہیں کی۔اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ کیونکہ یہ زمین میں تکبر اختیار کرنے والے لوگ ہیں تکبر اختیار کرتے ہوئے انہوں نے آنے والے کا انکار کر دیا وَ مَكْرَ الشَّيْئُ اور اس وجہ سے انکار کیا کہ یہ بری تدبیر میں جانتے تھے۔ایسے لوگ تھے جن کو یہ گھمنڈ تھا کہ ہم زمین میں بڑے بھی ہیں اور سازشوں اور جھوٹی سکیمیں بنانے میں ہمارا کوئی جواب نہیں، ہر قسم کی گندی تدبیریں بنانی ہمیں خوب آتی ہیں اس لئے جس قوم کے پاس طاقت بھی ہو بڑائی بھی ہو اور مکر اور فریب کی تدبیریں بنانے کی بھی ماہر ہو اس کو خدا کی طرف سے آنے والے کسی شخص کی پروا نہیں رہتی۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی دو چیزیں ہیں جو دنیا میں کامیابی کا گر ہوا کرتی ہیں۔جن کے پاس دنیا کی ظاہری بڑائی آجائے اور اس کے علاوہ وہ سازشی دماغ بھی رکھتے ہوں اور گندی مکر وفریب کی تدبیریں بنانا ان کا روز مرہ کا کام ہو وہ خدا کی طرف سے آنے والے ایک عاجز بندے پر کیسے ایمان لا سکتے ہیں؟ تو قوم کی ساری نفسیاتی حالت اسے انکار پر آمادہ کرتی ہے اس کا نقشہ اس آیت کے ایک چھوٹے سے ٹکرے میں کھینچ دیا گیا استِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ الشَّيْيُّ ان دو چیزوں نے قوم کو