خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 690
خطبات طاہر جلد ۳ 690 خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۸۴ آیت کا ترجمہ بدلا دیا اس جمع کے بعد واحد کے صیغہ کی مشکل کے نتیجہ میں اور یہ معنی کرنے کی کوشش کی گئی ہے بہت سارے تراجم میں وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہ اور عمل صالح کا جہاں تک تعلق ہے اللہ اس عمل صالح کو رفع بخشتا ہے۔بات تو کلام کی ہورہی تھی بات تو پاکیزہ جذبات کی ہو رہی تھی اس کی رفع کے لئے کون سی طاقت ہے اگر عمل کو اللہ رفع بخشا ہے تو پھر اسکو رفع کون بخشتا ہے؟ اس لئے اس کا وہی معنی ہے کہ ہ کی ضمیر پہلے جو بیان کیا گیا ہے اسی کی طرف جارہی ہے کہ عمل صالح فاعل ہے وہ رفع بخشتا ہے اس چیز کو جو پہلے گزری ہے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے اس کا حل ایک بہت پیارا تجویز فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ بسا اوقات قرآن کریم میں جمع کی طرف واحد کا صیغہ چلا جاتا ہے اور اس میں کچھ معنی مخفی ہوتے ہیں۔یہاں معنی یہ ہوں گے کہ ہر کلام کے لئے ایک عمل صالح کی ضرورت ہے رفع بخشنے کیلئے یعنی پاک کلام خدا کی طرف رفع پاتا ہے، بلندی اختیار کرتا ہے بشر طیکہ نیک اعمال ان میں سے ہر کلام کو قوت بخش رہے ہوں۔جب اس بات پر آپ غور کریں تو اس آیت میں ایک اور معانی کا جہان کھلتا ہوا روشن ہوتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔مراد یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کے خیالات، آپ کے جذبات ، آپ کی دعا ئیں خواہ کتنی بھی ہوں ایک یا دو یا چند اعمال صالحہ ان سب کو رفع بخش دیں گے بلکہ ہر نیکی یعنی خیالات کی نیکی کے ساتھ ایک نیک عمل وابستہ ہوا کرتا ہے اور اتنے ہی خیالات رفع پائیں گے جن کے ساتھ تطبیق رکھنے والا ، اطلاق پانے والا ایک عمل صالح بھی رونما ہورہا ہو، وہ بھی وجود پکڑ رہا ہو۔یعنی آپ اگر کسی کو نیکی کی نصیحت کرتے ہیں تو وہاں آپ کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ اس آیت کا کیا مفہوم ہے۔ایک انسان اگر بدیوں میں ملوث ہو لیکن ایک خوبی اس میں ہو وہ جب اس خوبی کے متعلق نصیحت پکڑتا ہے تو اس بات میں اثر ضرور ہوتا ہے لیکن اگر اعمال صالحہ کیسے بھی ہوں ایسی نصیحت کر رہا ہو جو نصیحت تو کر رہا ہے لیکن آپ اس پر عمل نہیں کر رہا اس نصیحت میں جان نہیں پڑے گی۔تو ہر بات جو تم خدا کے حضور پیش کرتے ہو اس بات کے ساتھ مطابقت رکھنے والا ایک عمل صالح ضروری ہے جو اس کو قوت بخش رہا ہو۔اگر تم رحم مانگ رہے ہو اللہ تعالیٰ سے اور تمہارے اندر رحم