خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 675
خطبات طاہر جلد ۳ 675 ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔خبردار! جو اس گھر میں قدم رکھ کے بھی دیکھا۔“ خطبه جمعه ۱۶ رنومبر ۱۹۸۴ء یہ احمدی عورتوں اور بوڑھوں کی حالت ہے جو ایک شدید خطرناک علاقے میں دشمنوں کے درمیان گھرے بیٹھے ہیں۔دشمن حفاظت کے لئے پیشکش کرتا ہے اور یہ اس حفاظت کو دھتکار دیتے ہیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے تمہاری حفاظتوں کی ، صرف خدا ہے جو ہمارا حافظ وناصر ہے۔اسی علاقے میں اللہ تعالیٰ نے دلوں کو ڈھارس دینے کے لئے بعض دلچسپ رنگ میں اپنی تائید کے، اپنی نصرت کے اظہار بھی فرمائے۔بظاہر چھوٹے سے واقعات ہیں لیکن حقیت یہ ہے کہ جن پر گزر رہی ہو جو صاحب تجربہ ہوں ان کو پتہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ پیار کے انداز بظاہر چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان میں کتنا گہرا پیار پوشیدہ ہوتا ہے۔اب جو میں واقعہ آپ کو سنانے لگا ہوں اگر کوئی مخالف سنے تو ہنسے گا ، مذاق اڑائے گا۔وہ تو ہر بات پر مذاق اڑاتے ہیں کہ لوجی ان کا خدا اس طرح ان کی تائید کرتا ہے لیکن جن کا خدا جن کی تائید کرتا ہے ان کو پتا ہے کہ خدا کے ایک ہلکے سے اشارہ میں ایک غفلت کی نظر میں بھی کتنا پیار پوشیدہ ہوتا ہے اور کتنا لطف پوشیدہ ہوتا ہے۔وہاں ایک احمدی دوست ، جس علاقے کی میں بات کر رہا ہوں اسی بڑے گاؤں کے ایک احمدی دوست ہمیشہ عید کے موقع پر ایک بیل ذبح کیا کرتے تھے اور پرانا ان کا دستور تھا اور وہ بڑی محبت سے بڑے شوق سے بیل پالتے تھے اور پھر اسے اپنے گھر کے صحن میں ذبح کیا کرتے تھے۔پچھلی جو عید آئی تو وہ قید کر لئے گئے ، جو لوگ پکڑے گئے ان میں سے ایک یہ صاحب بھی تھے۔کئی لوگوں کے نام لکھائے گئے کہ انھوں نے ہمیں دھمکیاں دیں ہمیں گالیاں دیں۔بہر حال یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرضی قصہ مولویوں نے بنایا تھا کہ ہمیں قتل کی دھمکیاں دیں یہ ان میں سے تھے۔عید کا دن آگیا مگر اس صحن میں اس دن کوئی بیل ذبیح نہیں ہورہا تھا اور گھر والے بڑی حسرت سے یاد کر رہے تھے کہ کبھی عید کے دن ہمارا باپ یا بھائی یا خاوند جوبھی تھاوہ یہاں یہ کام کیا کرتا تھا، ذبیح کرتا تھا خدا کے نام پر تو ایک عجیب نظارہ انہوں نے دیکھا۔انہوں نے دیکھا کہ اچانک دروازہ کھلا ہے اور ایک بیل دوڑتا ہوا اس گھر میں داخل ہوا ہے اور اس کی گردن آدھی کٹی ہوئی ہے اور پیچھے پیچھے کچھ لوگ بڑی وحشت سے دوڑتے ہوئے داخل ہوئے صحن میں اور انہوں نے بیل کو پورے زور سے اسی گھر سے باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن بیل نے انکار کر دیا، کسی قیمت پر وہ وہاں سے نہیں نکلتا