خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 659 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 659

خطبات طاہر جلد ۳ 659 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء مٹانے دیتے تو تم جا کر حکومت کی طرف سے کلے مٹاؤ۔پہلے تو انہوں نے کوشش کی ان کو حکم دیا ہم تمہیں یہ کریں گے اور وہ کریں گے تم مٹاؤ کلمہ انہوں نے کہا جو کرنا ہے کر وہ قتل کرتے ہو، مارتے ہو، پیتے ہو جو چاہو کر واحمدی کا ہاتھ کلمہ نہیں مٹائے گا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے یہ کہا بہت اچھا پھر ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم خود مٹائیں گے۔انہوں نے کہا تم جس حکومت کے کارندے ہو ویسی ہی صفات تمہاری ہیں جو چاہو کرو۔چنانچہ انہوں نے سیڑھیاں پکڑیں اور کلمہ مٹانے کے لئے مجسٹریٹ نے حکم دیا سپاہی کو کہ جاؤ او پر اور سیاہی پھیر دو اور احمدی اس وقت سجدہ میں گر گئے اور اس قدر روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں کہ اے خدا ! یہ دنیا میں دن دیکھنے تھے کہ تیرا نام تیرے نام پر مٹایا جارہا ہے تیرا نام لے کر تیرا کلمہ مٹایا جا رہا ہے ایک خادم لکھتے ہیں کہ جب سجدے سے اٹھ کر میں نے دیکھا مجسٹریٹ بھی بے اختیار روہا تھا۔اس نے کہا تھا کہ میرے لئے دعا کرو کہ میں بد بخت ہوں جو اس حکومت کے حکم پر مجبور ہو گیا ہوں میری کوئی پیش نہیں جارہی ، یہ دو نظارے پیدا ہورہے ہیں۔اب معمولی سی عقل والا انسان بھی پہچان سکتا ہے کہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا رستہ کون سا ہے اور أنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا رستہ کون سا ہے؟ ادھر وہ کلمے مٹا رہے ہیں ادھر ہماری چھوٹی بچیوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کلمے کی محبت اتنی پیدا کرتا چلا جا رہا ہے اتنی بڑھا رہا ہے کہ ان کا سینہ روشن ہو گیا ہے کلمہ کے نور سے۔ایک بچی کے متعلق ایک صاحب واقعہ لکھتے ہیں، کہتے ہیں۔میری بچی نے جب یہ سنا کہ اب کلے مٹانے کے حکم آگئے ہیں چھوٹی سی عمر کی بچی ہے بڑے جوش سے کہنے لگی کہ ہم سے کلمہ چھینا چاہتے ہیں ابا ! ہم تو کلمہ نہیں چھوڑیں گے چاہے ہماری گردنیں کاٹ دیں، ہمیں جنگلوں میں بند کر دیں۔ہمیں کمروں میں بند کر دیں یہ بچی کی باتیں ہیں بیچاری کی، ہم نے تو کلمہ طیبہ پڑھنا ہی پڑھنا ہے میرا دل ایسے حضور کو چھوڑنے کو نہیں کرتا اور یہ کہ کر زار و قطار رونے لگ گئی بہت ہی روئی ، بہت ہی روئی پھر کہنے لگی اب تو میرا مولا آہی گیا ہے اب تو اس نے ان کا کچھ نہیں چھوڑنا ہم نے ان کو کچھ نہیں کہنا ہمارا خدا ان کو مارے گا پھر یہ روئیں گے اور کہیں گے ہمیں کیا پتہ تھا نہیں تو ہم ایسا نہ کرتے۔چھوٹے چھوٹے بچوں کے دل پر جس خدا نے آسمان کے نور سے کلمہ لکھ دیا ہے ان کے اوپر ان کے کردار کی سیاہیاں کیسے پھر سکتی ہیں۔