خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 660
خطبات طاہر جلد ۳ 660 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء حقیقت یہ ہے کہ یہ کلمہ نہیں مٹار ہے یہ اپنے نام ونشان مٹانے کے سامان کر رہے ہیں۔ان کی سیاہیاں احمدی کے دل تک نہیں پہنچ سکتیں۔جتنا یہ ظاہری کلموں کو مٹائیں گئے اتناہی زیادہ روشن حروف میں اتنے ہی زیادہ نمائندہ و پائندہ و تابندہ حروف میں احمدیت کے دلوں پر کلمہ لکھا چلا جائے گا لکھا چلا جائے گا اور ہمیشہ کی زندگی احمدیت کو عطا ہوگی۔دلوں کے کلمے پر دنیا کے گندے اور کوتاہ ہاتھ نہیں پہنچ سکتے اور کوئی اُن کو مٹانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ایسی قو میں خود مٹ جایا کرتی ہیں اور وہ تو میں ہمیشہ کی زندگی پا جاتی ہیں جو خدا کے نام پر اپنا سب کچھ مٹانے کے لئے خود تیار ہو کر بیٹھ جاتی ہیں۔اس لئے خوش نصیب ہیں وہ بڑے اور وہ چھوٹے ، وہ مرد اور وہ عورتیں ، وہ بوڑھے اور وہ بچے جو آج اللہ کی راہ میں سب کچھ فدا کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگائے بیٹھے ہیں اور کوئی پرواہ نہیں، کوئی غیر اللہ کا خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی خاطر کا ئنات کو پیدا کیا گیا تھا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی خاطر کائنات کو رکھا جائے گا یا مٹایا جائے گا۔اگر انہوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اس آواز کو تسلیم کر لیا جو خدا نے اپنے ایک بندہ کی زبان سے جاری کروائی تھی تو وہ اپنی بقا کا سامان کریں گے اور یا درکھیں اگر وہ اس شرارت پر مصر رہے، اگر وہ ان گندگیوں میں آگے بڑھتے چلے گئے تو پھر خدا کی تقدیر ان کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑے گی۔کبھی اس تقدیر نے پہلی قوموں سے اس کے سوا کوئی سلوک نہیں کیا۔وہی خدا آج بھی زندہ خدا ہے وہ آج بھی ویسی ہی تقدیریں دکھائے گا جیسے پہلے دکھاتا چلا آیا ہے۔اس لئے دعائیں کریں اللہ تعالیٰ ہمیں مزید استقامت عطا فرمائے ، ہمیں صبر کی اور زیادہ توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اپنی راہ میں قربانیوں کی اور زیادہ تو فیق عطا فرمائے۔ہمارے بچوں کو بھی ولی بنادے اگر وہ جو قبروں میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اگر ان کو بھی آج تک تقویٰ کے پہلے سبق یاد نہیں تو اے خدا! ہم تیری تقدیر پہ راضی ہیں کہ تو ہمارے بچوں کو اولیاء کے مقام عطا فرما رہا ہے دن بدن وہ روحانیت کے ارفع سے ارفع مقامات کی طرف حرکت کر رہے ہیں۔ہم نے دیکھا کہ جو چلنا بھی نہیں جانتے تھے انہوں نے چلنا سیکھ لیا اس دور میں ، جو چلا کرتے تھے قدم قدم وہ دوڑنے لگے اور خدا کی قسم آج ایسے احمدی پیدا ہو چکے ہیں جو پہلے دوڑتے تھے آج روحانیت کے آسمان اور روحانیت کی رفعتوں میں وہ پرواز کرنے لگے ہیں اور دن بدن اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر ہمیں رفعتیں اور عظمتیں