خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 655 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 655

خطبات طاہر جلد۳ 655 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء وقت تمہارا اسلام کہاں سویا ہوا تھا ؟ تمیں کوئی خیال نہیں آیا کہ علاقوں کے علاقے ایسے پڑے ہوئے ہیں ہندوستان میں جہاں ہندو کلچر مسلمانوں کو تباہ کر رہا ہے اور دن بدن ان کو اسلام سے متنفر کر کے خاموشی کے ساتھ ہندوازم کی طرف واپس لے جا رہا ہے اس وقت تمہارے کانوں پر جوں نہیں رینگی اور اب جب کہ احمدی یہاں پہنچے ہیں ہمیں اسلام سکھانے کے لئے اور ان سے مقابلہ سکھانے کے لئے غیروں سے تو اب تم آگئے ہو کہ ان کو چھوڑ دو۔افریقہ میں جو صد سالہ سکیم تھی اس کے تابع ہم نے بعض ممالک کے سپر د بعض ممالک کئے تھے جہاں کوئی بھی احمدی نہیں تھا اور یہ فیصلہ تھا کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ہر ملک سوسالہ جو بلی کے تھے کے طور پر دو یا تین ملک ایسے خدا کے حضور پیش کرے جہاں پہلے احمدیت نہیں ہے۔چنانچہ افریقہ کے ایک ملک کے متعلق پہلے بھی اچھی خبر آئی تھی اب کل پھر اطلاع ملی ہے غانا کے سپر د کیا گیا تھا کہ خدا کے فضل سے وہاں دیہات کے دیہات احمدی ہوئے ہیں اور اب ان کی طرف سے مطالبہ آیا ہے کہ فوراً آکر ہمارے اندر جماعتیں قائم کرو، ہمیں نظام سکھاؤ اور اللہ کے فضل سے رجحان ایسا تیزی سے پھیل رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہمیں فوری طور پر وہاں مبلغ مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔چنانچہ ان کو میں نے کولکھا ہے۔آپ خود جائیں تنظیم قائم کریں اور آگے پھر اس کو سنبھالیں تو خدا کی دین ہے وہ تو نہیں رکنی۔جتنا یہ روک رہے ہیں اتنا ہی خدا کھولتا چلا جا رہا ہے ہماری راہیں جتنا یہ ہمارے رزق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اتناہی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چندوں میں برکت ڈالتا چلا جارہا ہے، جتنا یہ گندی گالیاں ہمیں دیتے ہیں اتنا ہی اللہ تعالیٰ ہمیں روحانی وجود بناتا چلا جارہا ہے۔جتنا یہ متنفر کرتے ہیں ہمارے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے دین سے اتنا ہی زیادہ عشق بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اسی کثرت سے احمدی درود بھیج رہا ہے۔جتنا یہ مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتے ہیں۔اتنا زیادہ احمدیوں میں حضرت مسیح موعود کی محبت موجیں مار رہی ہے۔یہ دو الگ الگ واقعات رونما ہورہے ہیں۔ایک مغضوب علیھم اور ضالین کی راہ ہے جو پہچانی جاتی ہے اور ایک وہ راہ ہے جن پر خدا نے انعام فرمایا اور وہ بھی پہچانی جاتی ہے چنانچہ وہ کام جو ہماری تربیتی تنظیمیں کبھی بھی نہیں کر سکتی تھیں وہ کام خود بخو دخدا کی تقدیر ظاہر فرما رہی ہے اس کثرت سے اطلاعیں ملتی ہیں ایسے احمدیوں کی جو یا تقربیاً بے دین خدا تعالیٰ سے اپنے