خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 646

خطبات طاہر جلد ۳ 646 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء فرمايا أو إطعم في يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ کھانا ایسے زمانہ میں کھلا نا جب کہ بھوک عام ہو۔یہ جو ہے بھوک عام ہونے کا وقت اس سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ کسی اور جگہ بھوک عام ہو۔مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ تو ہیں جو خود آسائش میں ہیں اور وہ کھانا کھلا دیتے ہیں جب اُن کو ضرورت نہ ہو اور کچھ خدا کے وہ بندے بھی ہیں جب کہ وہ خود بھوک کا شکار ہورہے ہوتے ہیں خود فاقوں میں مبتلا ہوتے ہیں خود ان کو ضرورت ہوتی ہے اس وقت وہ دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں یہ ہے عقبہ۔ہاں بیٹھے Surplus Food ہے بے شمار کھانا بچا ہوا ہے اور یہ مسئلے درپیش ہیں کہ کھانے کا کریں کیا ؟ اگر مارکیٹ میں پھینکیں تو اقتصادی حالات بگڑ جاتے ہیں، گوشت سستا ہو جائے تو گوشت پیدا کرنے سارے نظام پر وہ بری طرح اثر انداز ہوتا ہے، اگر انڈا سستا ہو جائے تو جتنے انڈے بنانے کے لئے مختلف فارمز ہیں مرغی پالنے والے وہ سارے کے سارے اس قدر بعض دفعہ متاثر ہوتے ہیں اقتصادی لحاظ سے کہ کچھ دن انڈ زیادہ رہتا ہے پھر اس کے بعد ایسا مارکیٹ سے غائب ہو جاتا ہے کہ پھر سنبھالا نہیں جاتا۔تو آج کل کے دور میں یورپ میں اس وقت حالت یہ ہے کہ کھانا اتنا کثرت سے پیدا کر چکے ہیں کہ اب یہ سوچ رہے ہیں کہ کھانے کو کم کس طرح کریں۔اور وہ کھانا یہاں Rot ( گلنا سڑنا) کرتا رہا ہے۔آج کی بات نہیں ہے پچھلے سال بھی یہ مسئلہ تھا اس سے پچھلے سال بھی یہ مسئلہ تھا، اس سے پچھلے سال بھی یہی مسئلہ تھا۔گوشت زیادہ ہوا ہے، انڈے زیادہ ہوئے ہیں ،خوراک کی دوسری چیزیں بڑھ گئی ہیں ان کے استعمال کی طاقت سے اور اہل حبشہ یہ کہتے ہیں اور ان کے ایک وزیر نے بیان دیا ہے کہ تم آج جو ہماری طرف اب دوڑ رہے ہو جب کہ حالت یہ ہے کہ خطرات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اب تم لوگ ایک دوسرے سے دوڑ بھی لگاؤ تو لکھوکھہا انسان تمہاری آنکھوں کے سامنے بھوکے مر جائیں گے اور کوئی ان کو بچا نہیں سکتا کیونکہ ذرائع آمد ورفت نہیں ہیں۔حالات ان کے ایسے ہیں کہ ان صحراؤں میں اس تیزی سے پہنچ ہی نہیں سکتے اور نہ اس تیزی سے وہاں تقسیم کر سکتے ہیں۔وہاں جو انتظامی مشینری ہے وہ بھی مکمل نہیں ہے تو صرف کھانا اب تم پہنچانے آئے ہو، ان کا یہ بیان آیا اور ہم پر احسان چڑھا رہے ہو۔تمہیں علم تھا، وزیر نے حوالے دیئے ہیں؟ تمہاری یونائیٹڈ نیشنز کی رپورٹوں میں آج سے دو سال پہلے یہ پیشگوئی تھی کہ فلاں جگہ فلاں وقت