خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 645
خطبات طاہر جلد ۳ 645 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء نکالے ہوئے کنوؤں سے مٹی چوس چوس کے جانوروں نے پانی پئے یہاں تک انسان وہاں پہنچتے رہے، وہ پانی بھی خشک ہو گیا اور کوئی قوم حرکت میں نہیں آئی ۔ نہ روس کو خیال آیا کہ اس طرح انسانیت بھوکوں مر رہی ہے، اور نہ امریکہ کو خیال آیا ، نہ یورپ کی قو میں جاگیں ۔ اب افریقہ ایک حصہ میں صرف یعنی ابی سینیا میں جو بھوک پڑی ہے تو اچانک یہ بیدار ہو گئے ہیں وجہ یہ ہے کہ وہاں ان کی سیاسی کشمکش چل رہی ہے دونوں گروہوں یعنی مشرق اور مغرب کی طاقتیں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ آج جو ان کا پیٹ بھرے گا وہ اس کے غلام ہو جائیں گے، اُس کے ساتھ اس کے سیاسی روابط بڑھ جائیں گے۔ تو جب مغرب کو یہ پتہ چلا کہ روس نے کثرت کے ساتھ ٹرکس بھجوانے شروع کر دیئے ہیں اور کچھ گندم کے ذخائر بھجوانے لگے ہیں تو اچانک ان کی دلی ہمدردی انسانی ہمدردی جاگ گئی اور بڑی تیزی کے ساتھ وہاں ایک دوسرے سے انہوں نے دوڑ شروع کر دی اور دوڑ کا آخری مقصد کیا ہے کہ اس ساری قوم کو ہم اپنا غلام بنائیں ۔ اس کے ساتھ چاڑ بھی ہے وہاں بھی لوگ بھوکوں مر رہے ہیں اس کا کوئی خیال نہیں آرہا اور دیگر ممالک بھی ہیں۔ تو اس لئے قرآن کریم کی یہ عجیب عظمت ہے کہ ایک چھوٹے سے فقرہ میں آئندہ زمانہ میں پیدا ہونے والے سارے فتنوں کا بھی ذکر فرما دیا اور آئندہ زمانوں میں پیدا ہونے والے حالات کا ذکر فرما دیا اور وہ بنیادی بات بیان کر دی جس کے نتیجہ میں ظاہری نیکیاں حقیقی اور گہری نیکیوں سے ممتاز ہو جایا کرتی ہیں ۔ ایک فاقہ اہل مکہ پر بھی پڑا تھا جو شدید دشمن تھے آنحضرت ملا کے جب ان کو گندم کی ضرورت پڑی تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ جو قافلے ان کے گندم لینے کے لئے شام کی طرف جاتے ہیں ان پر کوئی حملہ نہیں کرنا ۔ کیونکہ آج انسان بھوک میں مبتلا ہے۔ چنانچہ یہ فرق ہے بنیادی وہاں ایک نیکی ہے غلامی سے آزاد کرنے والی نیکی ایک نیکی ہے غلام بنانے والی نیکی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دو راستے کھلے ہیں انسان کے لئے اگر ان کو نیکیوں کا سلیقہ نہیں تھا تو صلى میرے وہ بندے جن کو میں نے خود نیکیوں کے سلیقے سکھائے ہیں ان سے پوچھ لیتے ، ان سے معلوم کرتے کہ نیکی کی روح کیا ہے یعنی محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں سے پوچھتے۔ فَكُ رَقَبَةٍ أَوْ اطْعَمُ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ أَوْ مِسْكِينَا نَا مَتْرَبَةٍ