خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 642

خطبات طاہر جلد ۳ 642 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء ہے اور کوئی ایک بھی خطہ دنیا ایسا نہیں جہاں سے اس پہلو سے ہر روزنئی سے نئی خوشخبریاں عطا نہ ہورہی ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دشمن کے دکھوں اور ظلموں سے تنگ آکر ایک مرتبہ ایک ایسا شعر فرمایا جس کی صحیح حقیقت حقیقی روح اب ہمیں معلوم ہورہی ہے کہ وہ کیا تھی آپ فرماتے ہیں: ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا ( در شین) جتنا زیادہ دشمن ظلم اور سفا کی میں آگے بڑھتا چلا گیا اتنا ہی اللہ تعالی نے اپنی رحمت اور شفقت کے سلوک کو بڑھا دیا۔چنانچہ یہی اللہ کی رحمت اور شفقت ہے جو ایسے دکھوں کے دور میں انسان کو زندگی کی توفیق عطا فرماتی ہے۔چنانچہ اللہ کی اس تقدیر کے اشاروں کو سمجھتے ہوئے جماعت احمدیہ کے سامنے جب بھی نیکی کی کوئی راہ بھی آئے گی وہ یقیناً اس میں پہلے سے زیادہ تیز رفتاری سے اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتی رہے گی اور نئے نئے نیکی کے راستے خدا کھولتا چلا جائے گا اور دشمن خواہ یہ سمجھتار ہے کہ جماعت کی توفیق ختم ہو چکی ہے مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالی اپنے فضل سے ہرنئی نیکی کے لئے توفیق بھی بڑھاتا چلا جائے گا اور یہ ناممکن ہے کہ جماعت احمد یہ کسی نیک اقدام کا فیصلہ کرے اور خدا تعالیٰ اس توفیق کو نہ بڑھا دے جو نیکی کی خاطر ہمیں محض خدا نے اپنے فضل۔د ނ عطا فرمائی ہے۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کے متعلق نہ صرف سبق ہیں بلکہ بعض خطر ناک غلطیوں سے متنبہ بھی فرمایا گیا ہے۔نیکی کیا ہے، سچی ہمدردی کس کو کہتے ہیں، اس کے مقاصد کیا ہیں ، کون سے خطرات ہیں جن سے بچنا چاہئے۔یہ تمام مضمون قرآن کریم نے ان آیات میں تفصیل سے بیان فرمایا اور حقیقت میں یہ آیات اس زمانہ کے متعلق ایک عظیم الشان پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہیں لیکن چونکہ ایک خطبہ جمعہ میں تفصیلی تفسیر کا وقت تو میسر نہیں آسکتا لیکن میں مختصراً اس مقصد کی خاطر جس کی طرف میں آپ کو لے جانا چاہتا ہوں کچھ حصے ان آیات کے آپ پر کھولنا چاہتا ہوں۔