خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 636
خطبات طاہر جلد ۳ 636 خطبه جمعه ۲ نومبر ۱۹۸۴ء اختیار کی اور قرآن کریم بار بار اس بات کو دوہراتا ہے اور بار بار بڑے درد ناک طریق پر لوگوں کو جگانے کی کوشش کرتا ہے کہ جب بھی خدا کی طرف سے کوئی آئے اس کی مخالفت مول نہ لو اس سے شرافت اور نجابت کا سلوک کرو۔اگر تمہیں نہیں یقین آتا تو ایک طرف ہٹ جاؤ لیکن تمہارا یہ حق نہیں ہے کہ گندہ کلامی کر کے خدا تعالیٰ کے عذاب کو سہیڑ لو۔لیکن عجیب بدقسمتی ہے انسان کی کہ بار بار پھر اسی تاریخ کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے جو مغضوب کی تاریخ ہے، جو ضالین کی تاریخ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس معاملہ کو بڑی وضاحت سے دوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ کا اپنے مجرموں سے دو قسم کا معاملہ ہے اور مجرم دو قسم کے ہیں ایک وہ مجرم ہیں جو حد سے زیادہ نہیں بڑھتے اور گو نہایت درجہ کے تعصب سے ضلالت کو نہیں چھوڑتے مگر وہ ظلم اور ایذاء کے طریقوں میں ایک معمولی درجہ تک رہتے ہیں اور اپنے جوروستم اور بے باکی کو انتہاء تک نہیں پہنچاتے۔پس وہ تو اپنی سزا قیامت کو پائیں گے اور خدائے علیم ان کو اس جگہ نہیں پکڑتا کیونکہ ان کی روش میں حد سے زیادہ سختی نہیں۔لہذا ایسے گناہوں کی سزا کے لئے صرف ایک ہی دن مقرر ہے جو یوم المجازات اور یوم الدین اور یوم الفصل کہلاتا ہے۔دوسری قسم کے وہ مجرم ہیں جو ظلم اور ستم اور شوخی اور بے باکی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کے ماموروں اور رسولوں اور راستبازوں کو درندوں کی طرح پھاڑ ڈالیں اور دنیا سے ان کا نام ونشان مٹادیں اور ان کو آگ کی طرح بھسم کر ڈالیں۔ایسے مجرموں کے لئے جن کا غضب انتہاء تک پہنچ جاتا ہے سنت اللہ یہی ہے کہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کا غضب ان پر بھڑکتا ہے اور اسی دنیا میں وہ سزا پاتے ہیں علاوہ اس سزا کے جو قیامت کو ملے گی۔(تحفہ گولر و یه روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۱۳ ۲۱۴) پس اب تو وقت ایسا آرہا ہے، جیسا کہ میں نے بار با توجہ دلائی تھی آخر میں پھر میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس وقت غضب کو جوش میں لانے کا وقت نہیں ہے رحم کو جوش میں لائیں۔کیونکہ