خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 630
خطبات طاہر جلد ۳ 630 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء وائز (Clock Wise ) یا اینٹی کلاک وائز (Anti Clock Wise ) اس کے سوا اور کوئی تبدیلی نہیں ہوئی مولوی میں۔ان کے مضمون پر آپ غور کریں یہ مذاق نہیں ہے ایک بڑا گہرا مضمون بتایا گیا ہے ملائیت کے تصور کے متعلق کہ ملائیت کی حقیقت کیا ہے۔وہ بھیس بدلتی رہتی ہے زمانے کے مطابق وہ لیکن اس کی اصلیت نہیں بدلتی۔ایک رجحان ہے ایک ذہنیت ہے اس کا نام ملائیت ہے۔چنانچہ اسی اصول کو اگر آپ چسپاں کر کے دیکھیں تو اُن کا مطلب یہ ہے کہ اگر قاضی شریح جس نے حضرت امام حسنؓ اور امام حسین اور آپ کی آل پر فتویٰ دیا تھا اس زمانہ میں قاضی کہلا تا تھا، اگر وہ آج پیدا ہوتا تو اس کا نام جسٹس ہوتا لیکن جسٹس کہلانے سے اس کی شریحیت تو نہیں بدل سکتی تھی جس قسم کے قاضی پہلے پیدا ہوئے ویسے ہی قاضی پیدا ہوتے رہتے ہیں اور اگر تقویٰ نہ ہو تو نہ قاضی کہلانے سے اس کے اندر کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ مولوی کہلانے سے فرق پڑتا ہے۔نہ جسٹس کہلانے سے فرق پڑتا ہے۔قرآن کریم تقویٰ کی شرط پیش کرتا ہے۔تقویٰ کے بغیر کوئی بھی مضمون باقی نہیں رہتا۔جہاں تک گالیوں کا تعلق ہے ایک احمدی تو گالیوں کا جواب گالیوں سے نہیں دے گا اس لئے اس فیصلہ کے خلاف کیا اپیل ہوگی جو گالیاں ہیں۔ایک دفعہ سندھ میں جہاں ہم ہندؤوں میں تبلیغ کرتے ہیں وہاں کا ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا ایک علاقے میں جہاں خدا کے فضل سے بکثرت ہندو مسلمان ہونے شروع ہوئے، کلمہ پڑنے لگے، شرک چھوڑا۔علما کو پتہ چلا تو انہیں بہت غصہ آیا انہوں نے کہا یہ احمدی ہوتے کون ہیں کہ ہندؤوں میں تبلیغ شروع کر دی ہے اور ہندووں کو کلمہ پڑھا رہے ہیں۔چنانچہ ایک جماعت اسلامی کے مولوی صاحب ایک گاؤں میں جا پہنچے جس کا نام پھول پورہ ہے اور وہاں کی آدھے سے زیادہ آبادی احمدی ہو چکی تھی اللہ کے فضل سے اور نمازیں پڑھنے لگ گئے تھے اور درود بھجتے تھے آنحضور ﷺ پر اور بچے صل الله بھی کلمہ پڑھتے تھے نہایت ہی پیاری آواز میں۔تو مولوی صاحب وہاں پہنچے اور احمدیوں کے خلاف گندہ دہنی شروع کر دی۔سٹیج لگایا اور اتنی گالیاں دیں کہ وہ حیران ہو کر تعجب سے دیکھتے رہے کہ ہوا کیا ہے مولوی صاحب کو ہم تو سمجھے تھے کہ اسلام کی باتیں بتائیں گے کچھ اپنے مذہب میں آنے کی دعوت دیں گے۔یہ تو ان کو گالیاں دے رہے ہے۔چنانچہ گاؤں کا نمبر دار تھا وہ بھی ہندو ہی تھا وہ اُٹھ کر کھڑا