خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 631 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 631

خطبات طاہر جلد۳ 631 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء ہو گیا۔اس نے کہا مولوی صاحب ! پہلے میری ایک بات سُن لیں اسکے بعد باقی با تیں۔بات میں یہ کہنا چاہتا ہو کہ جب یہ لوگ یہاں آئے تھے ہمیں مسلمان بنانے کے لئے تو انہوں نے ہمیں بہت پیاری پیاری باتیں بتائی تھیں، اللہ کا ذکر کرتے تھے محبت سے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے، خدا کے پیار کی باتیں کرتے تھے ، اپنے نبی کی پیار کی باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے خدا کا کوئی شریک نہیں اور محمد علہ اس کا بندہ اور رسول ہے اور سب نبیوں سے افضل ہے اور پھر اسلام کے اخلاق کی باتیں کرتے تھے کہتے تھے سب بھائی بھائی ہیں، کوئی دشمنی نہیں، کوئی نفرت نہیں تو ان باتوں نے ہمارے دل جیتنے شروع کئے۔اگر چہ میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوالیکن میرا گاؤں میری آنکھوں کے سامنے مسلمان ہو رہا ہے اور میں نے کبھی نہیں روکا کسی کو کیونکہ کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں جس پر مجھے اعتراض ہو اس لئے میں نے کوئی دخل نہیں دیا لیکن آج آپ ایک اسلام کا تصور لے کر آئے ہیں اور اس میں آپ گندی گالیاں دے رہے ہیں تو اگر سچائی کی یہی دلیل ہے تو اس نے کہا کر میرالڑکا میرے پاس ہے میں اس کا دوسری طرف سٹیج لگوا دیتا ہوں اور گالیوں میں اس سے مقابلہ آپ کر لیں لیکن شرط یہ ہے کہ اگر میرا بیٹا جیت گیا تو آپ پھر ہندو ہو جائیں اور اگر آپ جیت گئے تو میں اور میرا بیٹا مسلمان ہو جائیں گئے کیونکہ گالیوں کے سوا دلیل ہی کوئی نہیں دے رہے آپ یہ بھی اس کی خوش قسمتی تھی که مولوی صاحب نہیں مانے یہ بات ورنہ جس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں بیٹے نے ہار جانا تھا۔اگر کسی کو یقین نہیں آتا تو وہ ربوہ میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے اجتماع بند کر کے جس جلسے کی مولویوں کو اجازت دی ہے حکومت نے اسکی Tape سن لے کوئی۔اس قدر گندہ دینی ہے، اس قدر جھوٹے الزامات اور اتہامات کو آپ ایک طرف چھوڑیں ، حضرت اقدس مسیح مود علیہ الصلواۃ والسلام اور دیگر خلفائے سلسلہ کے متعلق ایسی ناپاک اور ایسی گندی زبان استعمال کی ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ پھول پورہ کا کوئی ہندو بھی اس مقابلہ میں جیت سکے۔یہ حالات ہو چکے ہیں ! یہاں تک قوم پہنچ رہی ہے اس کو کو نظر نہیں آرہا کہ ہم کہاں چلے گئے ہیں اور کیا ہمارا حال ہو چکا ہے؟ جہاں تک قضاء کا تعلق ہے دنیا کی عدالتیں فیصلے کیا کرتیں ہیں اور بعض دفعہ خدا کے بندوں کے خلاف فیصلے کیا کرتی ہیں، اس سے کوئی انکار نہیں لیکن احکم الحاکمین کے فیصلے بھی ضرور پیچھے آیا