خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 614
خطبات طاہر جلد۳ 614 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۸۴ء احمدی براہ راست اپنے روابط وسیع کر لیں اور مبلغ بن چکے ہوں تا کہ جب ان کو ضرورت پیش آئے ہم اس وقت انہیں مہیا کریں اور ذاتی تعلق کی بنا پر وہ لٹریچر پیش کریں۔دوسرے پتے اس کثرت سے اکٹھے ہو جائیں کہ ڈاک کے ذریعے ہمیں ہزار تمیں ہزار فی الحال میرا اندازہ یہ ہے کہ اس کو بڑی جلدی بڑھا کر ایک لاکھ تک پہنچا دیا جائے۔ایک لاکھ پتوں کا میں نے مطالبہ کیا ہے اور ابھی تک بعض جماعتوں کی طرف سے اس میں کمزوری ہے۔انگلستان بھی پتے مہیا کرنے میں کمزور ہے حالانکہ میں نے بار بار تاکید کی تھی بعض دور کے ممالک نے بڑی اچھی Response دکھائی ہے لیکن انگلستان میں ابھی کمزوری ہے۔میں نے اہل عرب کے پتے مانگے تھے تو انہوں نے وہ ڈائریکٹری اٹھا کے یا شاید عرب Embassies کی کتابیں منگوا کر ان سے پتے نوٹ کر کے بھیج دیئے حالانکہ اس قسم کے پتے نہیں چاہئیں۔پتے ایسے چاہئیں کہ جہاں پتہ بھیجنے والے کی نظر ہو کہ یہ کس قسم کا آدمی ہے، عمر اس کی کتنی ہے، رجحان کیا ہیں؟ ضروری تو نہیں کہ جتنے پتے آپ بھیجیں ان سب کو لٹریچر بھجوانا مناسب بھی ہو۔اس لئے یہاں بھی کافی چھان بین کرنی پڑتی ہے۔تو ایک پہلو سے تو انگلستان نے ابھی کمزوری دکھائی ہے لیکن ایک اور پہلو سے غیر معمولی طور پر خدمت بھی کی ہے۔یہ سارا کام پتوں کو مرتب کرنا اور پھر یاد دہانیاں کروانا لجنہ اماء اللہ یوکے کر رہی ہے اور نہایت مستعدی سے کام کر رہی ہے۔قریباً تمیں ہزار پتہ جات کو وہ مرتب کر چکے ہیں اور پھر ان کو کارڈز پر منتقل کرنا اور پھر ان کو کمپیوٹر میں Feed کرنا بہت بڑا کام ہے تیاری کا۔لیکن مجھے اندازہ ہے انشاء اللہ تعالیٰ جس وقت ہم لٹریچر کے لحاظ سے تیار ہوں گے اس کے ساتھ یہ بھی تیار ہو چکا ہوگا۔تو ایک نئے دور میں جماعت داخل ہونے والی ہے بہت وسیع تبلیغ کے دور میں اس کے لئے آپ بھی تیاری کریں اور جو علم دوست ہیں احباب وہ اپنی خدمات پیش کریں اور مضامین لکھیں، غیروں کے لٹریچر کی نگرانی کریں۔امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ یہ کام اب بڑی تیزی سے آگے بڑھے گا۔ایک بہت بڑی خوش خبری اسی ضمن میں یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا کہ وہ Italian ترجمہ قرآن کا کام اپنی نگرانی میں مکمل کروائیں۔چنانچہ پرسوں وہ آکر مجھے وہ آخری شکل میں مسودہ دے گئے ہیں۔مکمل ہو چکا ہے خدا کے فضل سے۔بہت سی کمپنیوں کی رائے