خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 612
خطبات طاہر جلد ۳ 612 خطبه جمعه ۲۶ را کتوبر ۱۹۸۴ء ہیں اور مزید انہوں نے لکھا ہے کہ بڑی تیزی سے رجحان ہے اور بعض لوگ تو انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خواب کے ذریعہ اب ان کی رہنمائی کرے تو وہ قدم اُٹھالیں ۔ ایسے بھی ہیں ان میں سے جو پہلے احمدیت کا نام تک نہیں سننا چاہتے تھے یعنی ایک وہاں صوفی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے انگریز ہیں ان کی بیوی کا رجحان ہو گیا اور وہ اس قدر شدید نفرت کرتے تھے احمدیت سے کہ انہوں نے لکھا ہے کہ جب ہم نے بیوی کو Tapes دینی شروع کیں اور اُس پر زیادہ اثر ہوا تو ایک دن وہ بلانے گئے بیوی کو اطلاع دینے کے لئے کہ فلاں میٹنگ میں تم نے آنا ہے، خاوند اس دن گھر پر تھا تو اس نے کہا کہ تم یوں کرو کہ یہ کیسٹ تم اپنی واپس لے جاؤ اور یہ میں میوزک کا ٹیچر ہوں یہ میوزک کی ٹیپ تم لے جاؤ جتنی تمہیں اس میں دیسی ہوگی اتنی مجھے اس میں دلچسپی ہے جو تم ٹیں (Tapes) دے رہے ہو اور میں نہیں پسند کرتا خیر ا نہوں نے ہمت نہیں چھوڑی۔ اور ایک کیسٹ تھی غالباً سوال و جواب کی جس میں یعنی متفرق باتیں تھیں یہاں کی جو مجلس ہوتی ہے وہ انہوں نے پھر بیوی کو دی اور اُس نے ایسے وقت میں لگائی جب خاوند بیٹھا گھر میں ہی تھا اور وہ سننے پر مجبور ہو گیا اور جب اس نے سنی تو اس نے خود مطالبہ بھیجا کہ مجھے اور چاہئیں اور پھر اس نے مٹینگنز میں حاضر ہونا شروع کیا اور اب وہ دعا کے لئے کہہ رہے ہیں کہ بس اب دعا یہ بات رہ گئی ہے دعا کرو کہ میں بھی ساتھ شامل ہو جاؤں ۔ اسی طرح ایک Moroccan (مراکشی ) نے بھی یہاں حال ہی میں بیعت کی ہے۔ تو جماعت انگلستان میں بھی اللہ کے فضل سے تبلیغ کی طرف توجہ ہورہی ہے لیکن رفتار بھی تھوڑی ہے جتنی ہماری Man power ہے یہاں اس کو اگر آپ استعمال کریں اور سارے بوڑھے، بچے، عورتیں ، مردسارے مصروف ہوجائیں تو انشاء اللہ تعالیٰ بہت عظیم الشان یہاں امکانات ہیں اور آپ کو بالکل بدلی ہوئی فضا نظر آئے گی ایک سال کے اندر اندر تبلیغ کرنے والی جماعتوں کی تو کیفیت ہی بالکل اور ہو جایا کرتی ہے۔ شرابیوں کا محاورہ ہے کہ ظالم تو نے پی ہی نہیں تجھے کیا پتہ کہ کیا چیز ہے؟ یہ سب سے زیادہ محاورہ مبلغ پر صادق آتا ہے۔ مبلغ جس کو عادت پڑ جائے تبلیغ کی اور جس کو خدا تعالیٰ یہ مزہ دے دے کہ اس کے ذریعہ کوئی احمدی ہو گیا ہے وہ دوسروں کو کہتا ہے زبانِ حال سے اگر ویسے نہ کہے کہ ظالم تو نے تو پی ہی نہیں تجھے کیا پتہ کہ تبلیغ میں کتنا مزہ ہے اور روحانی اولاد میں کتنا مزہ ہے؟