خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 608
608 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۸۴ء خطبات طاہر جلد ۳ کہ کبھی اس سلوک میں آپ تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔اس لئے سیالکوٹ والے اگر کچھ کمزور ہیں تو ان فضلوں کا علاج بھی یہی ہے کہ وہ قربانیوں میں آگے بڑھیں اور پھر دیکھیں کہ خدا تعالی کس طرح ان پر فا کی بارشیں نازل فرماتا ہے۔فیصل آباد میں بھی خدا کے فضل سے نمایاں ترقی ہوئی ہے یعنی تین سال پہلے اٹھاون ہزار تھا اب پچاسی ہزار ہے لیکن فیصل آباد میں بھی ایک مشکل یہ ہے کہ وہاں ابھی مجھ پر یہ تاثر ہے کہ جس قدر توفیق ہے اتنا وہ آگے نہیں آرہے۔لاہور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر چہ %44 اضافہ ہوا ہے یعنی فیصل آباد اور سیالکوٹ سے پیچھے ہے لیکن 3,49,000 کی رقم بتاتی ہے کہ لاہور کا قربانی کا معیار ماشاء اللہ اچھا ہے۔راولپنڈی میں بھی نمایاں اضافہ کا رجحان ہے۔پشاور بہت پیچھے چلا گیا تھا اس میں بھی اب خدا کے فضل سے نمایاں اضافہ کا رجحان ہے۔کوئٹہ میں بھی حیدر آباد میں بھی اور کراچی میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمایاں اضافہ کا رجحان ہے ان کا وعدہ بھی چار لاکھ دس ہزار تک پہنچ چکا ہے۔اللہ تعالیٰ ان جماعتوں کو بہترین جزاء عطا فرمائے اور پہلے کی نسبت زیادہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کی توفیق بخشے۔آمین۔جو بعض جزائر کی جماعتیں ہیں ان میں ماریشس اور نجی کو توجہ کرنی چاہے وہ بد قسمتی سے ان جماعتوں میں ہیں جن کی یا اطلاع نہیں پہنچ سکی یا واقعہ وہ گزشتہ سال کی نسبت کچھ پیچھے رہ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر رحم فرمائے اور گزشتہ کمی کو پورا کرنے کی توفیق بخشے۔اعد او د شمار تو بہت لمبے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ خلاصہ پیش کرنے کے نتیجہ میں آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اس وقت مالی لحاظ سے جماعت با وجود مشکلات کے خدا کے فضل سے چندوں میں آگے جا رہی ہے اور یہ چندے کے لئے تھرما میٹر کے طور پر کام کرنے والی چیز اور یہ دراصل اخلاص کا مظہر ہیں۔روپے تو کوئی ایسی حقیقت نہیں رکھتے خدا کے سامنے اگر خدا تعالیٰ نے ویسے روپے دینے ہوتے کاموں کے لئے تو آسمان سے بھی پھینک سکتا ہے ، خزانے کھول سکتا ہے اپنے وہ آپ کے ذریعہ کیوں روپے وصول کرتا ہے اس میں کیا حکمت ہے؟ اس میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ آپ کا اخلاص ترقی کرتا ہے اور تزکیہ نفس ہوتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتی ہیں دونوں چیزیں۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنے عزیز مال سے جدا ہوتے ہیں ان کی کیفیت اس