خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد۳ 604 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۸۴ء زائد اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہو چکے ہیں اور ان کے ورثا نے بڑی محبت اور عشق کے اظہار کے طور پر قربانیاں پیش کی ہیں اور سارے بقایا جات پورے کر دیئے ہیں اور اب وہ آئندہ یہ عہد کر چکے ہیں کہ ہم ان کو جاری رکھیں گے اور ہمارے بعد وہ دعا کرتے ہیں کہ ہماری نسلیں بھی انشاء اللہ اس کو جاری رکھیں گی۔لیکن بہت سے نام ایسے ابھی باقی ہیں جن کے متعلق تحریک جدید کے پاس ریکارڈ نہیں ہے کہ ان کے بچے کہاں گئے ہیں اور باوجود اس کے کہ جماعتوں کو سر کر دیا گیا تھا لیکن عموماً یہ ہوتا ہے کہ سرکلر امیر ، مربی تک پہنچتا ہے پھر بعض کارکنان تک پہنچ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کے اندر کمزوری آنی شروع ہو جاتی ہے اور یہ محنت نہیں اٹھائی جاتی کہ ساری جماعت کے ایک ایک فرد تک پیغام پہنچ جائے اور پھر یاد دہانی کروائی جائے اس لئے اس خطبہ میں میں خود یادہانی کرواتا ہوں کیونکہ اب تو ٹیسٹس (Cassettes) کے ذریعہ ساری دنیا میں پیغام پہنچ رہا ہوتا ہے تو جس جس احمدی کے کانوں تک یہ آواز پہنچے وہ تلاش کرے خود کہ میرے والدین یا میرے دادا پر دادا نے یا بعض اور بزرگوں نے حصہ لیا تھا کہ نہیں تحریک جدید میں اور اگر لیا تھا تو پھر اسے وہ زندہ کرنے کی کوشش کرے۔اگر کوئی ایسے بزرگ ہوں جنکی اولاد نہ ہولا وارث مر چکے ہوں خدا نخواستہ ایسے بھی ہوتے ہیں بہر حال تو میری تحریک جدید سے یہ گزارش ہے کہ ان کے نام میرے سپرد کریں میری خواہش ہے کہ میں ان کی طرف سے بھی چندہ دوں اور آئندہ بھی میری اولاد کی جو بھی شکل ہوان کو بھی وصیت کروں کہ اللہ تعالیٰ ان کے نام زندہ رکھنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ایک حصہ تحریک جدید کا اعمال کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے اس کے متعلق میں چند باتیں بعد میں بیان کروں گا اس سے پہلے کہ میں شروع کروں تحریک جدید کے بیرونی حصہ سے متعلق کچھ اعدادوشمار آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔گزشتہ سال بیرونی ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ ترپن لاکھ اٹھاون ہزار تین سو پچاس روپے (53,58,350) کے وعدے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور اب تریسٹھ لاکھ انسٹھ ہزار چار سو چونتیس روپے (63,59,434) کے وعدے بیرونی ممالک سے وصول ہو چکے ہیں۔ان میں جو نمایاں قربانی کرنے والی جماعتیں ہیں ان میں سے پین نے اضافہ کیا ہے۔تعداد تو اگر چہ تھوڑی ہے لیکن بہر حال ان کے اخلاص کا معیار کافی