خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 593
خطبات طاہر جلد ۳ 593 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء وہ نتیجہ میں عذاب نہیں آیا کرتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو ان باتوں کے نتیجہ میں عذاب آجایا کرتے ہیں۔یہ جو عذاب ہے یہ دوسرا عذاب ہے ، ایک عذاب تو ہے لڑائی جھگڑے فساد کے نتیجہ میں سوسائٹی ویسے ہی دکھوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور اسکے باوجود کھیلتے رہتے ہیں یہ لوگ اپنی زبان چاٹنے والی بلی کی طرح وہ مزے لوٹتے رہتے ہیں عذابوں کے اور سمجھتے ہیں کہ بس یہی ہے ہم نے مارا ہمیں مزہ آیا، انہوں نے مارا کچھ انہوں نے لطف اٹھا لیا یہ کھیل چلتی ہے لیکن ایسی قومیں پھر ہلاک ہو جایا کرتی ہیں، ان کے اوپر خدا کے عذاب کے فرشتے پھر مسلط کئے جاتے ہیں۔فرمایا تم جو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ نہیں ہوگا یہ بھی ہوگا اور اب تم اس عذاب کی تیاری کرو جو خدا کی طرف سے ان حالتوں میں نازل ہوا کرتا ہے۔وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ ہاں وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہیں نورانی ہو گئے خدا کے فضل کے ساتھ اللہ کی رحمت میں ہیں هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ وه ہمیشہ اللہ کی اسی رحمت میں رہیں گے۔جو علامتیں ظاہر ہو رہی ہیں اس وقت پاکستان میں وہ نہایت ہی قابل فکر ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپس کے اختلافات صرف مذہبی دنیا تک نہیں ہیں بلکہ سیاسی دنیا میں بھی اس طرح کی تفریقات ہو چکی ہیں۔صرف مذہبی حقوق نہیں دبائے جار ہے بلکہ سیاسی حقوق بھی دبائے جار ہے ہیں۔صرف مذہبی امور میں ہی غلط روش اختیار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہو رہی بلکہ سیاسی امور میں بھی پیشہ ور پیسہ لے کر غلط نظریات پھیلانے والوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔کچھ اندر سے ہو رہی ہے کچھ باہر سے ہو رہی ہے۔نہایت ہی خوفناک حالت تک پاکستان اس وقت پہنچ چکا ہے۔آنکھیں بند کرنے والوں کو تو کچھ بھی نظر نہیں آیا کرتا لیکن جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت عطا فرمائی ہے وہ دیکھ رہے ہیں کہ کس مقام کی طرف پاکستان پہنچ چکا ہے اور اس سے آگے پھر کیا ہے۔چونکہ جماعت احمدیہ پر ذمہ داری ہے کہ قوم کو ہر قسم کی ہلاکت سے بچانے کی کوشش کرے اسلئے یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ آپ اپنے انتقام لیں اور چونکہ آپ پر ظلم کئے گئے ہیں اس لئے خوش ہوں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا اب ان کو مار پڑ رہی ہے۔قرآن کریم ایسے عذابوں کی بھی خبر دیتا ہے جو قومی عذاب ہوتے ہیں۔ان میں نیک لوگ بھی پھر تکلیفیں اٹھایا کرتے ہیں بدوں کے ساتھ اس لئے