خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 592
خطبات طاہر جلد ۳ 592 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء کیسے عظیم الشان فطرت کے بار یک راز ہیں جو اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا چلا جاتا ہے۔عجیب کلام ہے، یہ تو ایسا کلام ہے کہ پڑھتے پڑھتے عاشق ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا کوئی انسان۔فرماتا ہے ہم جو تمہیں کہتے ہیں دوسروں پر احسان کرو تو دراصل یہ تمہارا اپنے اوپر احسان ہو گا تم یہ نہ سمجھو کہ تم محسن بن جاؤ گے خدا کی تقدیر ایسی ہے کہ نیکی کرنے والے کو اسی وقت تازہ تازہ جزا بھی ساتھ ملنی شروع ہو جاتی ہے کسی نیکی میں خدا ادھار نہیں رکھتا۔فرمایا پھر تو جب نصیحت کرو گے تو تمہیں خیال آئے گا کہ افسوس یہ لوگ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے ، ان کا کیا حال ہوا اور تم ان سے نصیحت پکڑو گے اور تمہارے دل تقویت پائیں گے اور یہ فیصلے کرو گے کہ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوا ان لوگوں کی طرح اب ہم نے نہیں ہونا جنہوں نے تفرقہ اختیار کر لیا وَاخْتَلَفُوا اور آپس میں اختلاف کر گئے۔مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَتُ بعد اس کے کہ خدا کی طرف سے کھلے کھلے نشانات ان پر نازل ہوئے تھے۔وَأُولَكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيم اور ان لوگوں پر عذاب عظیم آنے والا ہے اس لئے ان کو بچاؤ بھی اور ان حالتوں سے بچنے کی بھی مزید کوشش کرو۔فرماتا ہے یہ تو ہو گا لیکن بعض لوگوں کے مقدر میں بعض چیزیں لکھی جاتی ہیں تم کوشش کرو گے اسکی جزا پا لو گے لیکن جن کے مقدر میں فلاح نہیں ہے، جن کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے انہوں نے اپنے رستے پر چلتے رہنا ہے۔اس لئے جب کوئی نا کامی اور نا مرادی دیکھ لے اور پھر کوئی بچنے کی راہ نہ پائے اس وقت چہرہ کالا پڑ جایا کرتا ہے ایک نحوست سی چھا جاتی ہے چہرے کے اوپر تو فرمایا یہ نحوست تمہارے اپنے اعمال کا پھل ہے تمہیں خدا نے ایک نعمت عطا فرمائی تم پر نعمت نازل کی تم نے اس نعمت کا انکار کیا۔محمد مصطفی اے نے تمہیں محبت کی تعلیم دی تم نے اس تعلیم کو نفرتوں میں بدلا۔محمد مصطفی ﷺ نے رحم اور شفقت کی تعلیم دی تم نے غیظ وغضب میں اس کو تبدیل کر دیا اس کے نتیجہ میں سوسائٹی میں عذاب کا پیدا ہونا ایک لازمی امر تھا۔اب جب تم اس مقام پر پہنچ گئے ہو تو یہ ہے منہ کا کالا ہونا لیکن تم یہ جو سمجھ رہے ہو کہ یہ کھیل ہیں اور ان باتوں کے نتیجہ میں خدا کی غیر معمولی عذاب کی تقدیر نازل نہیں ہوا کرتی تو ہم تمہیں یہاں متنبہ کرتے ہیں یہ کہ کوئی کھیل نہیں تھا۔یہ انتہائی خوف ناک جرم ہیں خدا کی نظر میں۔اس دنیا میں تو جو سزا تمہیں مل رہی ہے وہ مل رہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں بتاتا ہے کہ تم نے جو عذاب کا انکار کیا ہے کہ ان باتوں کے