خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 591
خطبات طاہر جلد۳ 591 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء ہے، بے انتہا دکھ دیئے جارہے ہیں ایک دوسرے کو خدا کے نام پر مساجد میں نہایت گندی مغلظات ایک دوسرے کے فرقے کے خلاف بولی جارہی ہیں اور کھلم کھلا یہ تعلیم دی جارہی ہے مساجد سے کہ فلاں فرقے کے گھر جلاؤ تو تم جنت میں جاؤ گے، فلاں فرقے کے مال لوٹو گے تو تم جنت میں جاؤ گے، فلاں فرقے کے بزرگوں کی توہین کرو تو تم جنت میں جاؤ گے۔فلاں فرقے کے معززین کو گندی گالیاں دو تو تم جنت میں جاؤ گے، عجیب عجیب نسخے بانٹے جارہے ہیں جنت کے! تو اس بات پر خوش ہونے کا کوئی مقام نہیں کہ یہی چیزیں پہلے تمہارے خلاف ہورہی تھیں بلکہ قرآن تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تمہیں جس طرح ہم نے اپنے فضل سے بچایا اور محمد مصطفی ﷺ کے صدقے تم پر نعمتیں نازل فرما ئیں اب یہ نعمتیں تم غیروں میں بانٹو اور انکی سوسائٹی کی بھی اصلاح کی کوشش کرو۔پس تمام پاکستان کی جماعتوں پر یہ فرض ہے، قرآن کریم کی طرف سے عائد کردہ ہے وہ میرا حکم نہیں ہے کہ وہ تمام پاکستان کی سوسائٹی میں بھی اصلاح کی کوشش کریں۔اصلاح معاشرہ کے لئے جہاں تک ممکن ہے جدو جہد کریں اور لڑنے والوں کو سمجھائیں کہ دیکھو خدا کے نام پر نفرتیں نہیں پھیلایا کرتے خدا کے نام پر تو محبتیں پھیلا کرتی ہیں۔یہ عجیب دن چڑھارہے ہو تم کہ سورج کے نام پر تاریکیاں اتارنے لگے ہو۔محمد مصطفی ﷺ کی محبت میں عورتوں کو بیوائیں بنارہے ہو، بچوں کو یتیم کر رہے ہو، گھروں کو جلا رہے ہو، زندہ جلا دیئے ہیں بعض لوگ گھروں میں اور مساجد کو ویران کر رہے ہو اور مساجد کو منہدم کر رہے ہو پھر آگیں لگا رہے ہو تیل چھڑک چھڑک کر کس کی طرف سے تم آئے تھے کس کی طرف سے پیغام دینے لگے ہو؟ کون سا تم نے اپنا رخ مقرر کیا تھا کس طرف تمہاری منزل پھر گئی ہے؟ کچھ خدا کا خوف کر وہ نصیحت جو دل سے نکلتی ہے وہ اثر کرتی ہے۔آپ دل کی آواز اگر پہنچا ئیں گے اپنے معاشرہ میں تو یقیناً اس کا فائدہ پہنچے گا۔انشاء اللہ فرمایا وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنْتُ کہ تم نصیحت بھی کرو اور پھر نصیحت پکڑو بھی ان سے کیونکہ تم جب نصیحت کرو گے تو تم زیادہ اس بات کے اہل ہو گے کہ ان سے نصیحت حاصل کر سکو اور تمہاری اندورنی جمعیت کو مزید تقویت ملے گی۔