خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 584

خطبات طاہر جلد ۳ پھر فرمایا: 584 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء قرآن کریم کی جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں یہ سورۃ آل عمران سے لی گئی ہیں اور 103 سے لیکر 108 تک کی آیات ہیں جو میں نے تلاوت کی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اس طرح کرو کہ تقویٰ کا حق ادا ہو جائے حَقَّ تُقتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ اور کیسے حق ادا ہوگا ؟ لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ کر تم نے جان نہیں دینی، تم نے مرنا نہیں جب تک تم یہ یقین نہ کرلو کہ تم پوری طرح مسلمان ہو چکے ہو۔ہرگز ایسی حالت میں جان نہیں دینی کہ تم مسلمان نہ ہو۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا یہ ایک بہت ہی بڑا مشکل کا مقام ہے اور تقویٰ کا حق ادا کرنا جیسا کہ قرآن کریم سے ظاہر ہوا ہے ایک ایسا فرض ہے جو زندگی کے ہر لمحہ ساتھ رہتا ہے اور ایک لمحہ بھی اس سے جدا نہیں ہوتا کیونکہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں کوئی لمحہ ایسا نہیں، جس کے متعلق کہہ سکے کہ میں فلاں لمحہ مروں گا اس لئے اس وقت تقوی اختیار کرلوں گا۔تو شرط اتنی مشکل کر دی، تعریف اتنی مشکل بنادی کہ جب تک انسان ہر لمحہ پر تقویٰ کے ساتھ نگران نہ ہو جائے اس وقت تک حَقَّ ثقته والی بات پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ کس لمحہ بھی موت آ سکتی ہے اور ہرلمحہ انسان کو اپنے تقویٰ کا نگران ہونا پڑے گا۔ایک عجیب آیت ہے جو بظاہر اتنی مشکل ہے کہ کسی انسان کے بس میں اس کے مقصد کو پورا کرنا نظر نہیں آتا۔غیر معمولی طور پر اللہ کا فضل کسی بندے پر ہو تو وہ تو یہ کام کر سکتا ہے لیکن ہر انسان کے قبضہ قدرت میں بظاہر یہ بات نظر نہیں آتی کہ تقویٰ کا ایسا حق ادا کرے کہ دن اور رات سوتے اور جاگتے زندگی کا ایک بھی لمحہ اس پر نہ گزرے جس میں وہ اللہ تعالیٰ کے خوف کے تابع زندگی نہ بسر کر رہا ہو لیکن جوں جوں ہم آگے بڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس مضمون کو آسان بھی کرتا چلا جاتا ہے اور ایسے طریق بتاتا چلا جاتا ہے جن کو اخذ کرنے کے نتیجہ میں کمزور حصہ بھی ایک حد تک اپنی ذمہ داری کو ادا کر سکتا ہے۔چنانچہ اس سے اگلی آیت میں ایک اور تقویٰ کا معیار پیش فرمایا گیا: